68

چھاپے کے دوران دو بھائیوں کے ساتھ 5 سالہ بچی کو بھی حراست میں لے لیا، عدالت میں پیش

سی سی ڈی پولیس نے چوری و ڈکیتی کے الزام میں دو ملزمان کی گرفتاری کے دوران 5 سالہ بچی کو بھی اپنے ساتھ لے لیا، جس پر دادی نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اسجد جاوید گھرال نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ سیدہ شاہدہ ارشد نے موقف اپنایا کہ پولیس نے چھاپے کے دوران دو سگے بھائیوں کو گرفتار کرتے وقت ان کی 5 سالہ بھتیجی تحریم کو بھی ساتھ لے جایا، جس کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل رہا۔

سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے رپورٹ جمع کراتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے 10 اکتوبر 2025 کو قاسم اور فخر عباس کو بچی سمیت حراست میں لیا تھا۔ بعد ازاں 6 نومبر کو قاسم پولیس مقابلے میں ہلاک ہوا جبکہ فخر عباس زخمی حالت میں زیر علاج ہے۔

عدالت میں بچی تحریم کو پیش کیا گیا، جس پر جسٹس اسجد جاوید گھرال نے بچی کو لواحقین کے حوالے کرنے اور زخمی فخر عباس کی حفاظت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔