18

طالبہ کو ہراساں کرنے کے الزامات ثابت، لیکچرار ملازمت سے برخاست

ملاکنڈ: ملاکنڈ یونیورسٹی کے اردو ڈیپارٹمنٹ کے لیکچرار عبدالحسیب پر طالبہ کو ہراساں کرنے کے الزامات ثابت ہوگئے، جس کے بعد انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔

یونیورسٹی کی فوری کارروائی

طالبہ نے شکایت درج کرائی تھی کہ لیکچرار انہیں مسلسل ہراساں کر رہے ہیں اور زبردستی شادی کی کوشش بھی کی گئی۔ واقعہ رپورٹ ہونے پر یونیورسٹی نے ملزم کو فوری طور پر معطل کر کے اینٹی ہراسمنٹ کمیٹی کے سپرد کر دیا تھا۔

کمیٹی نے تفصیلی تحقیقات اور گواہوں کے بیانات کے بعد لیکچرار کو قصوروار ٹھہرا دیا۔ بعد ازاں سینڈیکیٹ کمیٹی نے انہیں نوکری سے برخاست کرنے کی منظوری دے دی۔

 محفوظ تعلیمی ماحول کی یقین دہانی

یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تعلیمی ادارے میں طلبہ و طالبات کے لیے محفوظ اور شفاف ماحول فراہم کرنا اولین ترجیح ہے، اور ہراسانی جیسے سنگین معاملات پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

 گورنر خیبر پختونخوا کا ردعمل

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واقعہ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
 "تعلیم گاہوں میں ایسے واقعات کا ہونا انتہائی تشویشناک ہے، اور اساتذہ جیسے معزز پیشے میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جانا چاہیے۔"