3

امن کے بغیر کاروبار اور سرمایہ کاری ممکن نہیں، قبائلی اضلاع کے وعدے پورے کیے جائیں: گورنر خیبرپختونخوا

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پولیس، سابقہ لیویز اور خاصہ دار فورس نے امن کے قیام کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں، لیکن صوبائی پولیس کی تنخواہیں اور مراعات دیگر صوبوں کے مقابلے میں اب بھی کم ہیں۔ دہشت گرد جدید اسلحے اور نائٹ وژن ٹیکنالوجی سے لیس ہیں جبکہ پولیس وسائل کی کمی کا شکار ہے، اس لیے پولیس فورس کو جدید ترین سازوسامان اور سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس پشاور میں قبائلی اضلاع کی تاجر برادری اور سابقہ لیویز و خاصہ دار فورس کے ایک نمائندہ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جرگے میں تاجر تنظیموں کے رہنماؤں، سابق ارکانِ پارلیمنٹ اور چیمبرز کے صدور نے شرکت کی اور گورنر کو اپنے درپیش مسائل اور تحفظات سے آگاہ کیا۔

گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے صوبے میں انضمام کو نو سال گزر چکے ہیں مگر اس وقت کیے گئے وعدے تاحال وفا نہیں ہو سکے اور ملنے والے ترقیاتی فنڈز کا بھی درست استعمال نہیں کیا جا رہا۔ بیرونی قرضوں کے بجائے اگر ملک میں امن اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو تاجر اور سمندر پار پاکستانی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔

انہوں نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت امن کے معاملے میں غیر سنجیدہ دکھائی دیتی ہے، حالانکہ قدرتی وسائل، سستی بجلی، گیس اور سیاحت کے باوجود امن کے بغیر کوئی سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جرگے کے تمام جائز مطالبات پر مبنی سفارشات تیار کر کے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو ارسال کی جائیں گی۔