2

مذہبی آزادی کی خلاف ورزیاں: امریکی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد سے پاک بھارت اور پاک امریکا سفارتی تعلقات پر اثرات کا امکان

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے بعض ارکان کے خلاف ہدفی پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کر دی ہے۔ یہ مطالبہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے 29 اگست کو متوقع دورۂ نیویارک کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

امریکی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر آصف محمود نے موہن بھاگوت کے دورے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ آر ایس ایس کے رہنماؤں کو کسی قسم کی اعلیٰ سطحی سرکاری ملاقاتوں یا سفارتی مراعات کی اجازت نہ دی جائے۔ کمیشن نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بھارت کو مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ممالک (سی پی سی) کی فہرست میں شامل کرنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف ٹھوس کارروائی کی سفارش کی تھی۔

دوسری جانب امریکا کی معروف مسلم سول رائٹس تنظیم ’کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز‘ نے بھی کمیشن کے اس مؤقف کی بھرپور تائید کی ہے۔ تنظیم نے الزام عائد کیا کہ آر ایس ایس سے وابستہ گروہ مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں سمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف معاندانہ کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں، لہٰذا ان پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکی انتظامیہ ان سفارشات پر عمل کرتی ہے تو یہ پیش رفت امریکا اور بھارت کے باہمی اور سفارتی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔