زُجاج و سنگ
قدسیہ قدسی کی فارسی رباعیات: تجلیاتِ عرفان و جمال کا شعری منظرنامہ
تحریر: پروفیسر سید محمد اصغر کاظمی
قدسیہ قدسی عصرِ حاضر کی اُن ممتاز فارسی گو شاعراؤں میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے رباعی جیسی دقیق، لطیف اور فکری صنفِ سخن میں اپنی انفرادیت کا روشن نقش ثبت کیا ہے۔ ان کی شاعری لطافتِ بیان، فصاحتِ کلام، نزاکتِ احساس، عمقِ فکر، رفعتِ تخیل، رمزیت، ایمائیت، اشراقیت اور عرفانی بصیرت کا ایسا دل آویز مرقع ہے جس میں کلاسیکی فارسی ادب کی شاندار روایت بھی جلوہ گر ہے اور عصرِ حاضر کے فکری و روحانی تقاضے بھی پوری آب و تاب کے ساتھ نمایاں ہوتے ہیں۔ ان کا کلام جمالیاتِ فکر، روحانیتِ احساس، تہذیبِ فارسی، لطافتِ زبان اور معنوی تہہ داری کا حسین امتزاج ہے، جس کے مطالعے سے قاری خود کو وادیِ عرفان اور اقلیمِ معنی کی سیر کرتا ہوا محسوس کرتا ہے۔
قدسیہ قدسی کی رباعیات میں سوزِ دروں، کیفِ محبت، جلوۂ حقیقت، تجلیاتِ عرفان، انوارِ معرفت، حسنِ استعارہ، ندرتِ خیال، شکوہِ اظہار اور بانکپنِ ادا اس خوبی سے یکجا ہو گئے ہیں کہ ہر رباعی اپنے اندر ایک مستقل فکری جہان سموئے ہوئے دکھائی دیتی ہے۔ ان کے اسلوب میں فارسی کی کلاسیکی روایت کی بازگشت سنائی دیتی ہے، تاہم ان کی آواز تقلید نہیں بلکہ اپنی جداگانہ فکری شناخت کی حامل ہے۔ یہی وصف انہیں معاصر فارسی شاعراؤں میں ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔
قدسیہ قدسی کی حمدیہ رباعی ان کے روحانی شعور اور بارگاہِ الٰہی سے قلبی وابستگی کی بہترین ترجمان ہے۔
اے خدا! اے صاحبِ جود و سخا
دامن کشادہایم و دستِ دعا
از درِ تو ما را نگردانی تہی
اَنَّکَ لطیفٌ لِما تَشاء
یہ رباعی تضرع و ابتهال، خشوع و خضوع، توکل و رضا، نیاز و احتیاج اور فیضانِ ربانی کی دل نشیں تصویر پیش کرتی ہے۔ شاعرہ نے دامنِ امید اور دستِ دعا جیسی بلیغ تراکیب کے ذریعے بندۂ مومن کے عجز و انکسار کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ آخری مصرع "اَنَّکَ لَطِیفٌ لِمَا تَشَاء" قرآنی اسلوب کی تضمین ہے، جس نے رباعی کو روحانی جلال، معنوی وقار، تقدسِ بیان اور عرفانی رفعت عطا کر دی ہے۔ اس مختصر رباعی میں لطفِ ایزدی، فیضانِ رحمت، انوارِ الٰہی، کشفِ حقیقت اور ذوقِ بندگی کی ایسی فضا قائم ہوتی ہے جو قاری کے قلب و روح کو منور کر دیتی ہے۔
اسی طرح ان کی رباعی "پیرِ مغاں" تصوفِ فارسی کی کلاسیکی روایت کا ایک نہایت دل کش اور بامعنی نمونہ ہے۔
کارہائے انسان دیدہ، شیطان گوید الاماں
پیشِ تو سجدہ کنیم ما، ہمہ خرد و کلاں
ہوش رباست جامِ تو، و داری چہ دستِ کمال
ما ہمہ ایم مغ بچہ، و ہستی تو پیرِ مغاں
اس رباعی میں پیرِ مغاں محض ایک شعری استعارہ نہیں بلکہ مرشدِ کامل، مظهرِ حقیقت، منبعِ فیض، قبلۂ اہلِ عرفان اور رہبرِ راہِ سلوک کی علامت بن کر سامنے آتا ہے۔ جامِ پیرِ مغاں یہاں بادۂ عشق، ساغرِ معرفت، شرابِ حقیقت اور مئے عرفان کا استعارہ ہے، جو سالک کے باطن کو نورِ معرفت سے منور کرتا ہے۔ شاعرہ اپنے آپ کو مغ بچہ قرار دے کر عجز، ادب، انکسار اور فنائے ذات کی نہایت لطیف کیفیت کو مجسم کر دیتی ہیں۔ اس رباعی میں رموزِ تصوف، اشاراتِ عرفان، مقاماتِ سلوک، وارداتِ قلبی، تجلیاتِ عشقِ حقیقی اور اسرارِ حقیقت اس فنی مہارت سے جلوہ گر ہیں کہ قاری بے اختیار فارسی صوفیانہ ادب کی کلاسیکی روایت کی یاد میں کھو جاتا ہے۔
قدسیہ قدسی کی فارسی شاعری کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں لفظ و معنی، صورت و سیرت، عقل و عشق، جمال و جلال، جذبہ و شعور اور روایت و جدت کے درمیان ایک حسین توازن قائم نظر آتا ہے۔ ان کی رباعیات میں فصاحت و بلاغت، حسنِ ترکیب، لطافتِ تعبیر، شائستگیِ اسلوب، معنوی وسعت اور فکری بالیدگی اس درجہ نمایاں ہے کہ ان کا ہر شعر ایک مستقل فکری اور جمالیاتی کائنات کا آئینہ دار معلوم ہوتا ہے۔
قدسیہ قدسی نے اپنی فارسی شاعری کے ذریعے نہ صرف کلاسیکی فارسی ادب کی تابندہ روایت کو زندہ رکھا ہے بلکہ اسے اپنے عہد کے شعور، احساس اور روحانی تجربے سے بھی ہم آہنگ کیا ہے۔ ان کا کلام اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ فارسی زبان آج بھی اپنی حلاوتِ بیان، لطافتِ اظہار، وسعتِ معنی اور روحانی تاثیر کے اعتبار سے زندہ، توانا اور زرخیز ہے۔ ان کی رباعیات آئینۂ عرفان، مرقعِ جمال، صحیفۂ محبت، جلوہ گاہِ حقیقت اور مظہرِ ذوقِ سلیم کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہی اوصاف انہیں عصرِ حاضر کی ممتاز فارسی رباعی گو شاعراؤں کی صفِ اوّل میں جگہ دیتے ہیں، اور ان کا ادبی سرمایہ اردو و فارسی ادب کے لیے ایک گراں قدر اثاثہ اور آنے والی نسلوں کے لیے سرمایۂ افتخار ہے۔









