پاکستان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ تمام چینلز کے ذریعے کوششیں جاری ہیں، جبکہ فریقین کی رضامندی سے مذاکرات کسی بھی وقت دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اور ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان امن کے لیے ثالثی کے حوالے سے پرامید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں مذاکرات فریقین کی رضامندی سے کسی بھی وقت دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ اگرچہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مکمل عمل درآمد شاید نہ ہوسکا ہو، تاہم امن کے لیے بنیادی فریم ورک اب بھی یہی یادداشت ہے۔ جنگ بندی میں بھی فریقین کی رضامندی سے توسیع کی جاسکتی ہے، جس سے مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
مکہ معاہدے کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ 7 اگست کو ہونے والا معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد خطے کی سیکیورٹی صورتحال سے مشترکہ طور پر نمٹنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مکہ معاہدے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے اور وزیراعظم نے بطور لیڈر آف دی ہاؤس معاہدے پر دستخط کیے۔ کسی متعلقہ ادارے کو اعتماد میں نہ لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ترجمان نے مکہ معاہدے پر ریاستی اداروں کے درمیان اختلاف رائے کی اطلاعات کی بھی سختی سے تردید کی۔
طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ بحرین کے وزیر خارجہ نے پاکستان کے دورے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جس کا وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خیرمقدم کیا ہے۔ دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے دورے پر ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے امور پر بات چیت کرنا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ انہیں محسن نقوی کے دورے کے دوران کسی خصوصی پیغام کے حوالے سے معلومات نہیں ہیں۔
بھارت کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت آزاد کشمیر کی صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے، اسے آزاد کشمیر پر تبصرے کے بجائے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر توجہ دینی چاہیے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دینا چاہیے۔
مکہ معاہدے میں دیگر ممالک کی ممکنہ شمولیت کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ معاہدہ کھلا ہے تاہم نئے ممالک کی شمولیت کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اور امریکا کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات کے فورمز بھی کھلے ہیں۔
بحری سلامتی کے حوالے سے دفتر خارجہ نے کہا کہ تجارتی جہازوں پر حملے اور آزادانہ بحری راستوں میں رکاوٹ ڈالنا قابل مذمت ہے۔ پاکستان سعودی قیادت میں بحری اتحاد کے معاہدے کو عملی شکل دینے کے لیے بھی تیار ہے۔









