3

ٹرمپ کو ترکیہ سے خفیہ طور پر منتقل کیوں کیا گیا؟ اہم انکشاف سامنے آگیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ترکیہ میں نیٹو اجلاس سے واپسی کے دوران سیکیورٹی سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کو ممکنہ میزائل حملے سے متعلق معلومات موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد ٹرمپ کے سفری انتظامات میں خفیہ تبدیلی کی گئی۔

رپورٹس کے مطابق انٹیلی جنس معلومات میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ایران یا اس سے وابستہ گروہ ٹرمپ اور ان کے طیارے کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے ذریعے نشانہ بنا سکتے ہیں۔ امریکی حکام نے خطرے کو قابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے سیکیورٹی اقدامات بڑھا دیے تھے۔

اس صورتحال کے بعد ٹرمپ نے ترکیہ سے واپسی کے لیے نئے قطری طیارے کے بجائے پرانے ایئر فورس ون کا استعمال کیا۔ بعض امریکی ذرائع کے مطابق اس فیصلے میں سیکیورٹی خدشات اور طیارے کے دفاعی نظام کی صلاحیتوں کو مدنظر رکھا گیا تھا۔

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ کو انتہائی خفیہ انداز میں ایک دوسرے فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا، جبکہ اصل طیارے کو بطور ڈیکوی استعمال کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاہم اس کارروائی کی تمام تفصیلات پر امریکی حکام کی جانب سے مکمل تصدیق نہیں کی گئی۔

امریکی میڈیا کے مطابق ممکنہ حملے سے متعلق معلومات اسرائیلی انٹیلی جنس کے ذریعے بھی امریکی انتظامیہ تک پہنچی تھیں، تاہم بعد میں کسی میزائل حملے کی اطلاع سامنے نہیں آئی اور خطرے کی تمام تفصیلات عوامی طور پر واضح نہیں کی گئیں۔

صدر ٹرمپ نے بعد میں طیارہ تبدیل کرنے کے معاملے پر سیکیورٹی وجوہات کی اہمیت کو کم ظاہر کیا، تاہم مختلف رپورٹس کے مطابق امریکی سیکیورٹی حکام نے احتیاطی اقدام کے طور پر انہیں زیادہ محفوظ انتظام کے تحت ترکیہ سے روانہ کیا تھا۔