سندھ ہائی کورٹ نے شہر قائد میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر جاری کیے جانے والے ای چالانز کے خلاف دائر متعدد درخواستوں کی سماعت 9 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔
عدالتِ عالیہ میں سماعت کے دوران امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر کی جانب سے تحریری بیان جمع کرایا گیا۔ درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق نے موقف اختیار کیا کہ شارع فیصل پر گاڑیوں کے لین کی تبدیلی پر ای چالانز کاٹے جا رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سڑک پر کئی مقامات پر لینز کی واضح نشان دہی ہی موجود نہیں ہے۔
وکیل نے ای چالان کے طریقہ کار میں تکنیکی خامامکیاں اجاگر کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ چالان کے ساتھ ڈی میرٹ پوائنٹس کی کٹوتی سے متعلق سنگین مسائل درپیش ہیں۔ انہوں نے دلائل دیے کہ ڈرائیونگ لائسنس کے پوائنٹس کی کٹوتی گاڑی کے رجسٹرڈ مالک کے بجائے اس شخص (ڈرائیور) سے ہونی چاہیے جو اس وقت گاڑی چلا رہا ہو۔ سندھ ہائی کورٹ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت 9 ستمبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔









