3

زمبابوے میں مسافروں سے بھری کشتی الٹ گئی، 44 افراد ہلاک

زمبابوے میں جھیل کاریبا میں مسافروں سے بھری کشتی الٹنے کے المناک حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 44 ہوگئی۔

رپورٹس کے مطابق حادثے کے بعد جھیل سے مزید 24 لاشیں نکال لی گئی ہیں، جس کے بعد مجموعی طور پر 44 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

زمبابوے کے حکام کے مطابق کشتی میں اس کی مقررہ گنجائش سے کہیں زیادہ افراد سوار تھے۔ کشتی میں 90 افراد کے سوار ہونے کی گنجائش تھی، تاہم جھیل عبور کرتے وقت تقریباً 120 افراد اس پر موجود تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جھیل میں تیز ہواؤں کے باعث کشتی کا توازن بگڑا اور وہ الٹ گئی۔ حادثے کے بعد 67 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا جبکہ لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔

زمبابوے کی سول پروٹیکشن یونٹ کے مطابق کشتی کی ٹکٹ فروخت کے ریکارڈ میں 114 مسافروں اور 5 عملے کے ارکان کی موجودگی سامنے آئی ہے۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کشتی میں ایسے بچے بھی سوار ہوسکتے ہیں جن کے لیے ٹکٹ درکار نہیں تھا، اس لیے مسافروں کی اصل تعداد زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

حکام کے مطابق مقررہ گنجائش سے زیادہ افراد کی موجودگی حادثے کی شدت میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہوسکتی ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے واقعے کو قومی ہنگامی صورتحال قرار دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

حادثے میں بچ جانے والے افراد کو جھیل میں واقع لانگ آئی لینڈ منتقل کیا گیا، جہاں سے سول پروٹیکشن یونٹ کی کشتیوں کے ذریعے انہیں محفوظ مقامات پر پہنچایا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق لاپتا افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور کشتی میں مقررہ حد سے زیادہ افراد کے سوار ہونے کے معاملے کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔

جھیل کاریبا زمبابوے اور زیمبیا کی سرحد کے قریب واقع ہے اور حجم کے اعتبار سے دنیا کی بڑی مصنوعی جھیلوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ دریائے زیمبیزی پر ڈیم کی تعمیر کے نتیجے میں وجود میں آئی اور تقریباً 200 کلومیٹر طویل اور 40 کلومیٹر تک چوڑی ہے۔