4

بلدیاتی انتخابات کی التوا کی کوششیں: جماعتِ اسلامی کا تحریک انصاف کے 'پرائیویٹ ممبر بل' کے خلاف 7 اگست سے احتجاج کا اعلان

جماعتِ اسلامی شمالی خیبر پختونخوا کے امیر اور سابق سینئر صوبائی وزیر عنایت اللہ خان نے پاکستان تحریک انصاف  کی صوبائی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس نے خیبر پختونخوا اسمبلی سے خاموشی کے ساتھ ایک پرائیویٹ ممبر بل منظور کروا کر بلدیاتی انتخابات کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کی راہ ہموار کی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے یہ متنازع بل واپس نہ لیا تو جماعتِ اسلامی عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹانے کے ساتھ ساتھ 7 اگست سے صوبائی سطح پر احتجاجی تحریک کا آغاز کرے گی۔

جماعتِ اسلامی خیبر پختونخوا وسطی کے امیر عبدالواسع کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عنایت اللہ خان نے کہا کہ عوام کو خبر دیے بغیر اسمبلی میں اسپیکر کی نگرانی میں بلدیاتی قانون سازی کی گئی ہے۔ جماعتِ اسلامی اس عمل کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے اور الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس اقدام کا فوری نوٹس لیتے ہوئے صوبے میں بلاتفریق و بلا تاخیر لوکل گورنمنٹ الیکشن کروانے کے احکامات جاری کرے۔

عنایت اللہ خان نے متنازع بل کے خد و خال اور اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے درج ذیل نکات اٹھائے

  • حلقوں کی کمی اور نئی حلقہ بندیاں: انہوں نے کہا کہ اس پرائیویٹ ممبر بل کے ذریعے بلدیاتی حلقوں کی تعداد کم کی جا رہی ہے تاکہ دوبارہ سے نئی اور طویل حلقہ بندیوں کا طریقہ کار شروع ہو جائے، جس سے انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہو جائیں گے۔

  • گراس روٹ جمہوریت کی نفی: سابق سینئر وزیر کے مطابق ماضی میں ویلج کونسلز کے قیام سے عام اور غریب عوام کو سیاسی دھارے میں لایا گیا تھا، تاہم موجودہ اقدامات سے سرمایہ داروں کو موقع دیا جا رہا ہے اور گراس روٹ لیول کی جمہوریت کے تمام دعوؤں کو دفن کر دیا گیا ہے۔

  • سیاسی رشوت اور فنڈز پر شب خون: انہوں نے الزام لگایا کہ تحریک انصاف نے بلدیاتی اداروں اور عوامی نمائندوں کا حق مار کر اربوں روپے کے فنڈز اپنے منظورِ نظر سیاسی نمائندوں کو بطور سیاسی رشوت تقسیم کیے۔

جماعتِ اسلامی کے رہنما نے بلدیاتی دور کے اختتام پر قائم ہونے والی مختلف تنظیموں کی پراسرار خاموشی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ نام نہاد تنظیمیں بھی اس قانون سازی پر حکومت کے ساتھ ملی ہوئی ہیں اور بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کے حق میں نہیں ہیں۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جماعتِ اسلامی نچلی سطح پر اختیارات اور فنڈز کی منتقلی کو یقینی بنانے اور بلدیاتی نظام کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری و قانونی راستہ اختیار کرے گی۔