روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے رواں ہفتے کے اوائل میں اپنے چینی ہم منصب وانگ ای سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے مابین اسٹریٹجک دوطرفہ تعلقات، توانائی (انرجی) کے شعبے میں تعاون، اور باہمی تجارت کے حجم و ساخت میں آنے والی جدید اور تیز تر تبدیلیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے روس اور چین کے مابین قائم جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی توثیق کی۔ مذاکرات کے اہم نکات درج ذیل ہیں
-
عالمی و علاقائی سیاسی ہم آہنگی: دونوں رہنماؤں نے عالمی سطح پر یکطرفہ اقدامات اور معاشی پابندیوں کے مقابلے میں دوطرفہ تعاؤن اور ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
-
سفارتی ہم آہنگی: اقوامِ متحدہ، برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم کے فورمز پر باہمی تعاون اور رابطوں کو مزید فعال بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
روس اور چین کے درمیان انرجی پارٹنرشپ کا فروغ تعطل کے بغیر جاری ہے۔ گفتگو میں درج ذیل شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی:
-
تیل و گیس کی ترسیل: روسی خام تیل اور قدرتی گیس کی چین کو مسلسل ترسیل اور نئے پائپ لائن منصوبوں پر تکنیکی و معاشی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
-
ایٹمی اور متبادل توانائی: سول نیوکلیئر انرجی کے شعبے میں جاری مشترکہ منصوبوں کی بروقت تکمیلیت اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات میں دونوں وزرائے خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان ریکارڈ حد تک بڑھتے ہوئے تجارتی حجم پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ تجارتی ڈھانچے میں آنے والی مثبت تبدیلیوں پر روشنی ڈالی گئی:
-
مقامی کرنسیوں کا استعمال: باہمی تجارت میں امریکی ڈالر پر انحصار ختم کرتے ہوئے روبل اور یوآن کے استعمال کے تناسب میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
-
صنعتی و تکنیکی مصنوعات: روس کو چین کی جانب سے گاڑیوں، بھاری مشینری، الیکٹرانکس اور اعلیٰ تکنیکی سامان کی در آمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ روس کی جانب سے انرجی مصنوعات اور زرعی اجناس کی ترسیل میں تسلسل برقرار ہے۔
دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آنے والے دنوں میں تجارتی توازن اور تکنیکی تعاون کو مزید بلندیوں پر پہنچایا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کی معیشتوں کو عالمی چیلنجز سے محفوظ رکھا جا سکے۔









