وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بند کمروں میں فیصلے کرنے والے خیبرپختونخوا میں تجربات کر رہے ہیں، ایسے فیصلہ سازوں کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
سوات میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبے کے عوام بعض پالیسیوں کی وجہ سے بددل ہو رہے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں اب عمران خان کی پالیسی ہی چلے گی۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شہداء سب کے سانجھے ہوتے ہیں اور کسی ایک بیان کی بنیاد پر کسی کو غدار قرار نہیں دیا جا سکتا۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شفیع جان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، اب اس معاملے کو ختم کرکے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور یہ صورتحال کیسے پیدا ہوئی، اس پر غور کرنا چاہیے۔
وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا نے کہا کہ حکومت کو سب سے بڑا چیلنج دہشتگردی کا سامنا ہے، بلوچستان کے حالات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
شفیع جان نے مزید کہا کہ عمران خان کی گرفتاری کو 5 اگست کو تین سال مکمل ہو رہے ہیں، ہر قیدی کے حقوق ہوتے ہیں جو بانی چیئرمین کو بھی ملنے چاہئیں۔









