1

ایران کا امریکی حملوں کی صورت میں سخت جواب دینے کا اعلان

امریکا کی جانب سے ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد ایران نے ممکنہ جوابی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنی توانائی تنصیبات، خصوصاً بجلی گھروں، پر ممکنہ حملوں کی صورت میں ردعمل کے مختلف آپشنز تیار کر لیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگر ایران کے پاور پلانٹس یا اہم توانائی مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو ایران یمن کی حوثی تنظیم کے ذریعے آبنائے باب المندب کو بند کرانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے حوثیوں کو ہدایات بھی جاری کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

آبنائے باب المندب عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ اس کی بندش سے بحیرہ احمر میں جہاز رانی متاثر ہونے کے ساتھ عالمی توانائی کی فراہمی پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی کارروائیاں جاری رہیں تو جنگ کا دائرہ نئے محاذوں تک پھیل سکتا ہے۔

ایرانی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران نئی حکمت عملی اور جدید صلاحیتوں کے ساتھ کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم ایران کا خطے کے ممالک کے ساتھ تصادم کا کوئی ارادہ نہیں۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں وسیع تر تنازع کے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی کی ترسیل اور خطے کی سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔