1

کیا امریکا ایرانی جزائر پر قبضے کی تیاری کر رہا ہے؟ تجزیہ

ایران کے جنوبی جزائر قشم، کیش اور ابوموسیٰ پر حالیہ امریکی حملوں کے بعد یہ سوال عالمی سطح پر زیرِ بحث ہے کہ کیا امریکا ایرانی سرزمین پر قبضے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے؟ الجزیرہ کی ایک خصوصی رپورٹ اور عسکری ماہرین کی آراء اس معاملے کی پیچیدگی کو نمایاں کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق، امریکا کے پاس مشرقِ وسطیٰ میں موجود 50,000 فوجیوں اور اپنی فضائی و بحری طاقت کے ذریعے ان جزائر پر عارضی قبضہ کرنے کی صلاحیت تو موجود ہے، تاہم اسے عملی جامہ پہنانا انتہائی مشکل ہے۔

  • قبضہ بمقابلہ کنٹرول: کسی جزیرے پر وقتی قبضہ کرنا اور اسے طویل عرصے تک سنبھالنا دو الگ معاملات ہیں۔ قشم جیسا بڑا جزیرہ ایرانی ساحل کے قریب ہونے کی وجہ سے وہاں قبضہ جمانا بہت مشکل ہے۔

  • مزاحمت: چھوٹے جزائر پر قبضہ بظاہر آسان لگ سکتا ہے، لیکن یہ ایرانی میزائلوں، ڈرونز، توپ خانے اور تیز رفتار کشتیوں کی زد میں رہیں گے۔

  • نفری کا تخمینہ: ایک اندازے کے مطابق، ایسی کارروائی کے لیے کم از کم 5,000 سے 10,000 فوجیوں کی ابتدائی تعیناتی درکار ہوگی، جو ایک سے زائد جزائر پر قبضے کی صورت میں کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کو ان جزائر کی فوری بازیابی کی ضرورت نہیں ہوگی؛ وہ مسلسل حملوں کے ذریعے امریکی افواج کو بھاری نقصان پہنچا کر ان مقامات کو امریکا کے لیے انتہائی مہنگا اور سیاسی طور پر نقصان دہ بنا سکتا ہے۔

  1. آبنائے ہرمز پر اثرات: جزائر پر قبضے سے ایران کی آبنائے ہرمز میں مداخلت ختم نہیں ہوگی، کیونکہ ایران زمین سے بھی میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھ سکتا ہے۔

  2. بڑی جنگ کا خطرہ: اگر امریکا ایران کی سمندری صلاحیت کو مکمل ختم کرنا چاہتا ہے تو اسے جنوبی ساحلی علاقوں میں وسیع فوجی کارروائی کرنا ہوگی، جو ایک بڑی زمینی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

  3. سیاسی اور معاشی قیمت: ایسی مہم جوئی نہ صرف فوجی اعتبار سے مہنگی ہوگی بلکہ امریکا کے اندر بھی عراق جنگ جیسے شدید سیاسی ردِعمل کو جنم دے سکتی ہے۔

اگر امریکا ان جزائر پر قبضہ کرتا ہے، تو اس کے نتیجے میں:

  • عالمی جہاز رانی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

  • تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کے باعث عالمی معیشت اور انشورنس اخراجات پر دباؤ بڑھے گا۔

  • خلیجی ممالک بھی اس کشیدگی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ اگرچہ امریکا اس قبضے کو ایک "فوجی کامیابی" کے طور پر پیش کر سکتا ہے، تاہم یہ واشنگٹن کو ایک ایسی طویل، مہنگی اور پیچیدہ علاقائی جنگ میں الجھا سکتا ہے جس سے بظاہر وہ دور رہنا چاہتا ہے۔