حنا جاوید قتل کیس میں عدالت نے مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر اور گھریلو ملازم ذیشان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔
پولیس نے دونوں گرفتار ملزمان کو علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے انہیں تین روز کے لیے پولیس کی تحویل میں دے دیا۔
پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران ملزمان سے قتل کی واردات، اس کی منصوبہ بندی اور محرکات سے متعلق مزید پوچھ گچھ کی جائے گی۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ قتل میں استعمال ہونے والی رسی اور تار بھی برآمد کرلی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے لیے جائیں گے، جبکہ جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے دیگر شواہد کو بھی فرانزک جانچ کے لیے بھجوایا جائے گا۔
تفتیشی حکام کے مطابق مرکزی ملزم فیصل اصغر کے والد کو بھی شامل تفتیش کرلیا گیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ فیصل اصغر نے مبینہ طور پر اپنے ملازم ذیشان کو واردات میں شامل ہونے کے لیے رقم دی، جبکہ ذیشان نے قتل کے دوران مبینہ طور پر اس کی معاونت کی۔
کیس کا پس منظر
45 سالہ حنا جاوید کی لاش 20 اگست کو راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں عسکری اپارٹمنٹس میں واقع گھر کے باتھ روم سے ملی تھی۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق مقتولہ کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے، منہ پر کپڑا تھا جبکہ گردن میں تار باندھی گئی تھی۔
مقتولہ کے بھائی فہد جاوید کی مدعیت میں تھانہ سول لائن میں مقدمہ درج کیا گیا، جس میں حنا جاوید کے شوہر فیصل اصغر، سسر اصغر علی فیاض اور گھریلو ملازم ذیشان ارشد کو نامزد کیا گیا تھا۔
پولیس نے مقدمے کے بعد شوہر اور گھریلو ملازم کو گرفتار کیا جبکہ مقتولہ کے سسر کو بھی تفتیش میں شامل کرلیا گیا ہے۔
مقتولہ کے اہل خانہ نے کیس کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس کے الزامات اور تفتیشی دعوے تاحال زیرِ تفتیش ہیں، جبکہ ملزمان کی مجرمانہ ذمہ داری عدالت میں ثابت ہونا باقی ہے۔









