4

کرپٹو کرنسی پی ٹو پی لین دین کیس: لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانت منظور

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے پِی ٹو پِی لین دین سے متعلق ایک اہم مقدمے میں ملزمان کی عبوری قبل از گرفتاری ضمانتیں منظور کرتے ہوئے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں اہم قانونی اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صرف آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ورچوئل اثاثوں کی منتقلی یا بینک اکاؤنٹ میں رقم کی آمد سے کوئی شخص ازخود دھوکہ دہی، جعلسازی یا الیکٹرانک فراڈ کا مرتکب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ مقدمہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی  نے تعزیراتِ پاکستان اور پیکا ایکٹ 2016ء کے تحت درج کیا تھا، جس میں شکایت کنندہ نے کرپٹو کرنسی کی خریداری میں 6 کروڑ 86 لاکھ روپے کے نقصان اور اکاؤنٹ منجمد ہونے کا الزام لگایا تھا۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے فیصلے میں واضح کیا کہ اگرچہ کرپٹو کرنسی پاکستان میں قانونی زرِ مبادلہ نہیں، مگر صرف اس بنیاد پر اسے غیر قانونی یا ممنوعہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 2018ء کا سٹیٹ بینک سرکلر بینکوں کے لیے تھا، جو شہریوں کے لیے کوئی فوجداری جرم پیدا نہیں کرتا۔ تمام شواہد دستاویزی ہونے اور ملزمان کا اکاؤنٹ منجمد کرنے سے بلاواسطہ تعلق ثابت نہ ہونے پر عدالت نے ملزمان کو ایک ایک ملین روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت فراہم کر دی۔