4

وزن میں کمی کے باوجود ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ قائم رہ سکتا ہے: نئی طبی تحقیق میں اہم انکشاف

طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اگرچہ وزن کم کرنا مجموعی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے، لیکن ٹائپ 2 ذیابیطس کے زیادہ خطرے والے بعض افراد صرف وزن گھٹانے سے اس بیماری سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہ سکتے۔

’ٹیوبنگن لائف اسٹائل انٹروینشن پروگرام‘ (TUEF) کے اعداد و شمار کے تجزیے پر مبنی اس تحقیق میں ان افراد کا جائزہ لیا گیا جنہوں نے 2 سالہ طرزِ زندگی میں بہتری کے پروگرام کے بعد تقریباً 9 سال تک اپنے صحت کے امور کو برقرار رکھا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ذیابیطس کے زیادہ خطرے والے مخصوص گروپ ’کلسٹر 5‘ (Cluster 5) میں شامل افراد نے اپنے جسمانی وزن میں تقریباً 8 فیصد تک نمایاں کمی کی اور اسے طویل عرصے تک برقرار بھی رکھا، لیکن اس کے باوجود ان کے خون میں شوگر کی سطح مسلسل بڑھتی رہی۔

محققین کے مطابق ایسے افراد میں وقت کے ساتھ ساتھ لبلبے کی انسولین بنانے کی صلاحیت کمزور ہوتی گئی اور ان میں ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ بدستور اعلیٰ سطح پر رہا۔ اس تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ذیابیطس کے تدارک کے لیے صرف وزن کم کرنا ہی کافی نہیں بلکہ جینیاتی اور میٹابولک عوامل کا باریک بینی سے جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔