4

تجارت و معیشت: آئی پی پیز کی کپیسٹی پیمنٹس اور بھاری ٹیکسز

پاکستان میں بجلی کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتیں اور آئی پی پیز کے ساتھ مہنگے معاہدے ملکی معیشت، صنعتی پیداوار اور برآمدات کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ نیپرا  کی جانب سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ میں پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق، مالی سال 2022ء سے مالی سال 2026ء کے اپریل تک حکومت نے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو مجموعی طور پر 13 ہزار 397 ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں کیں۔

حیران کن طور پر ان ادائیگیوں میں سے صرف 6 ہزار 275 ارب روپے استعمال شدہ بجلی کی اصل قیمت تھی، جبکہ 7 ہزار 121 ارب روپے کپیسٹی پیمنٹ یعنی بغیر استعمال کی گئی بجلی کی مد میں ادا کیے گئے۔ مالی سال 2023ء سے کپیسٹی پیمنٹس کا بوجھ اصل خریدی گئی بجلی کی لاگت سے بھی بڑھ گیا، جبکہ روپے کی قدر میں کمی کے باعث ڈالر انڈیکسڈ معاہدوں کی لاگت میں 100 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

علاوہ ازیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں یہ انکشاف ہوا کہ مالی سال 2026ء کے دوران ایف بی آر نے بجلی کے بلوں پر 476 ارب روپے کے ٹیکسز (351 ارب روپے سیلز ٹیکس اور 124 ارب روپے انکم ٹیکس) وصول کیے، جس سے بجلی کی فی یونٹ قیمت 84 روپے تک پہنچ گئی۔ چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کی تجویز دی، جبکہ سینیٹر کامل علی آغا نے بجلی بلوں کو ٹیکس وصولی کا آسان ذریعہ بنانے کی شدید مذمت کی۔ ماہرین کے مطابق جب تک گردشی قرضے، بجلی چوری، ترسیلی نقصانات اور آئی پی پیز معاہدوں کا مستقل حل نہیں نکالا جاتا، صنعتی بحالی اور معاشی نمو ممکن نہیں۔