3

ہالی ووڈ اداکار جیرڈ لیٹو پر ہراسانی کے سنگین الزامات، تہلکہ خیز رپورٹ سامنے آگئی

لاس اینجلس: ہالی ووڈ اداکار اور موسیقار جیرڈ لیٹو کے خلاف متعدد خواتین کی جانب سے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جبکہ اداکار نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی نئی ڈاکیومنٹری ’جیرڈ لیٹو: ہالی ووڈ ڈارک سیکرٹ‘ میں مجموعی طور پر 10 خواتین نے اداکار کے خلاف الزامات بیان کیے ہیں، جن میں سے 9 خواتین پہلی مرتبہ عوامی سطح پر سامنے آئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چار خواتین نے جنسی زیادتی اور نامناسب رویے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ایک خاتون نے دعویٰ کیا کہ مبینہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ 17 برس کی تھیں، جبکہ دوسری خاتون نے الزام لگایا کہ انہیں مبینہ طور پر جنسی حملے کی دھمکی دی گئی۔

ایک اور خاتون نے دعویٰ کیا کہ کیلیفورنیا میں ان کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا جب وہ 17 برس کی تھیں، جبکہ چوتھی خاتون نے الزام لگایا کہ انہیں کم عمری میں بار بار جنسی نوعیت کی فون کالز موصول ہوئیں۔

بی بی سی کے مطابق یہ مبینہ واقعات 2002 سے 2016 کے درمیان پیش آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جب جیرڈ لیٹو کی عمر 30 سے 40 سال کے درمیان تھی۔

جیرڈ لیٹو کا ردعمل

اداکار جیرڈ لیٹو نے اپنے نمائندوں کے ذریعے جاری بیان میں تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی کے ساتھ جنسی زیادتی نہیں کی۔

ان کے بیان کے مطابق، "یہ تمام دعوے مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ہیں۔"

بی بی سی کا کہنا ہے کہ ڈاکیومنٹری میں شامل بعض دعوؤں کی تصدیق اہلِ خانہ، دوستوں، تصاویر اور پیغامات سمیت مختلف ذرائع سے کی گئی ہے، تاہم اداکار کی جانب سے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کیا گیا ہے۔

یہ معاملہ ہالی ووڈ میں ایک بار پھر مشہور شخصیات کے خلاف سامنے آنے والے الزامات اور احتساب کی بحث کو نمایاں کر رہا ہے۔