118

’جنریشن زی‘ اور کلاسک گھڑیوں کا نیا رجحان

ایک ایسے دور میں جب وقت دیکھنے کے لیے اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپ اور حتیٰ کہ باتھ روم کے آئینے بھی ڈیجیٹل ڈسپلے رکھتے ہیں، نئی نسل یعنی ’جنریشن زی‘ روایتی کلائی گھڑیوں کی دیوانی بنتی جا رہی ہے۔

2005 میں جس دور کو گھڑیوں کے زوال کا وقت کہا جا رہا تھا، آج وہی گھڑیاں نوجوانوں کے لیے محض ضرورت نہیں بلکہ ایک ’مقدس فن پارے‘ کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔

یوٹاہ کے 22 سالہ یوٹیوبر ایون فرائی اس رجحان کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔ ایون کے پاس اب تک 35 سے زائد قیمتی گھڑیاں موجود ہیں، جن میں سب سے قیمتی ’ٹیگ ہیور کیریرا‘ ہے، جو انہوں نے ہالی ووڈ اسٹار ریان گوسلنگ سے متاثر ہو کر خریدی۔

ایون کہتے ہیں، ”گھڑیاں کسی انسان کی زندگی کی سچی ساتھی ہوتی ہیں، ان میں تاریخ اور یادیں سانس لیتی ہیں۔“

لگژری گھڑیوں کے ری سیل پلیٹ فارم ’بیزل‘ کے مطابق کمپنی کی کل فروخت کا ایک تہائی حصہ 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، اور یہی طبقہ ایک ہی گھڑی پر سب سے زیادہ رقم خرچ کرنے والا گروپ بن چکا ہے۔

’کرونو 24‘ کے ڈیٹا کے مطابق کلاسک ڈریس واچز کی خریداری میں 2018 سے اب تک 44 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق چونکہ یہ نسل مکمل طور پر ڈیجیٹل ماحول میں پلی بڑھی ہے، اس لیے وہ ایسی چیزوں کی قدر کرتے ہیں جو چھوئی جا سکیں اور پائیدار ہوں۔

’ٹیا کلیکٹو‘ کی مالکہ ڈاہین لی کہتی ہیں کہ نوجوان اکثر ایسی گھڑیاں تلاش کرتے ہیں جو ان کی دادی یا نانی پہنتی تھیں، تاکہ وہ ماضی کی یاد سے جڑ سکیں۔

آج گھڑیوں کی دنیا میں مردانہ اور زنانہ ڈیزائن کی تفریق بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایون فرائی بتاتے ہیں کہ انہوں نے چھوٹی اور نازک گھڑیاں پہننا تب شروع کیا جب معروف اداکار ’تیموتھی شالامے‘ کو کارٹئیر پینتھر پہنے دیکھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے نوجوان گھڑیوں کو وقت دیکھنے کے لیے نہیں بلکہ ایک خوبصورت ’بریسلٹ‘ یا زیور کے طور پر خریدتے ہیں۔ کئی 14-15 سالہ نوجوان گھڑی خرید کر فخر سے کہتے ہیں، ”ہمیں تو سوئیوں والی گھڑی سے وقت دیکھنا ہی نہیں آتا۔“

یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ اسمارٹ فونز اور اسمارٹ واچز کے باوجود مکینیکل اور کلاسک گھڑیوں کی اپنی ایک الگ کشش ہے، جو نسلوں کے فرق کو مٹا رہی ہے اور گھڑی کو ایک فن پارہ اور شناخت کی علامت کے طور پر پیش کر رہی ہے۔