1

ہری پور سنٹرل جیل کا دورہ: معاونِ خصوصی افتخار اللہ جان کی زیرِ قیادت نئی سہولیات کا افتتاح اور جیل اصلاحات پر زور

ہری پور: وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے جیل خانہ جات افتخار اللہ جان نے معاونِ خصوصی برائے سیاحت و ثقافت ملک عدیل، رکنِ صوبائی اسمبلی اکبر ایوب خان اور انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات ریحان گل خٹک کے ہمراہ سنٹرل جیل ہری پور کا تفصیلی دورہ کیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے جیل کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرنے کے علاوہ متعدد نئی سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح بھی کیا۔

دورے کے دوران جیل حکام کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ سنٹرل جیل ہری پور میں اس وقت تقریباً 1100 قیدی موجود ہیں، جہاں سکیورٹی آرکیٹیکچر، این آر ٹی سی انٹیگریشن، ڈیجیٹل گورننس، ورچوئل کورٹس، پروڈکشن لیبارٹری، فارمیسی اور تشخیصی طبی سہولیات کا جدید نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ پشاور اور مردان کے بعد ہری پور صوبے کی تیسری جیل ہے جس کی اپنی ویب سائٹ موجود ہے جبکہ جاری اے ڈی پی اسکیموں اور دو نئے منصوبوں کی مجموعی لاگت 342 ملین روپے ہے جن پر اب تک 55 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔

معاونِ خصوصی افتخار اللہ جان نے خواتین سیل، جیو نائل سیکشن، میڈیکل وارڈز، ڈینٹسری وارڈ اور ڈرگ اینڈ ری ہیبلیٹیشن سنٹر کا معائنہ کیا، اور ریکارڈ کی فوری ڈیجیٹلائزیشن اور ڈینٹسٹ کی خالی آسامی کو پُر کرنے کے احکامات جاری کیے۔ انہوں نے نو تعمیر شدہ شہید ظاہر اسپورٹس ایرینا، اسٹاف آفیسرز میس اور پرزن انڈسٹری شوروم کا افتتاح بھی کیا۔ بعد ازاں، پرزن اسٹاف ٹریننگ اکیڈمی (پاسٹا) ہری پور کے دورے میں بریفنگ دی گئی کہ سنہ 2022 میں قائم ہونے والی اس اکیڈمی میں اب تک 40 تربیتی کورسز کے دوران 1482 اہلکاروں کو تربیت دی جا چکی ہے۔ معاونِ خصوصی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت جیلوں کو سزا کے بجائے اصلاح اور تربیت کے مراکز میں بدلنے کے لیے پُرعزم ہے، اور تقریب کے اختتام پر بہترین خدمات انجام دینے والے افسران میں توصیفی اسناد تقسیم کی گئیں۔