پشاور: حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں کرپشن، مبینہ ہراسگی اور ایک گھناؤنے مکروہ دھندے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں گائنی یونٹ میں تعینات چارج نرس شکیلہ ناز نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ اور مخصوص ڈاکٹروں پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران چارج نرس شکیلہ ناز (دختر حاجی حکم خان، سکنہ ڈبگری پشاور) نے بتایا کہ وہ گزشتہ 18 سال سے گائنی یونٹ میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں، تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے انہیں ہسپتال کے بعض عہدیداروں بشمول شاہ سوار، ایچ ڈی شیر زمان، ڈاکٹر نظیر وزیر اور آرتھوپیڈک سرجن زاہد وزیر کی جانب سے مسلسل ہراسگی کا سامنا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس مافیا میں گائنی ڈاکٹرز مدیحہ، ڈاکٹر سعدیہ شمشیر، پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ اور ڈاکٹر رابعہ صدف بھی شامل ہیں جو انہیں غیر قانونی پرائیویٹ اسقاطِ حمل اور دیگر غیر قانونی کاموں پر مجبور کرتے ہیں۔
شکیلہ ناز نے انتہائی تشویشناک انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ایچ ایم سی کے گائنی یونٹ سے خواتین کے پلاسنٹا اور قبل از وقت پیدا ہونے والے مردہ بچوں کو باقاعدہ ایک مافیا کے ذریعے چین (چائنہ) کو فروخت کیا جا رہا ہے، اور اس مکروہ دھندے کے خلاف آواز اٹھانے پر ان کے خلاف انکوائریوں کا طوفان کھڑا کر دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالت سے اسٹے آرڈر لینے کے باوجود انتظامیہ نے عدالتی احکامات ماننے سے انکار کر دیا ہے، ان کی تنخواہ بند کی گئی ہے اور اب انہیں مبینہ طور پر جھوٹے مالیاتی الزامات میں پھنسایا جا رہا ہے۔
متاثرہ نرس نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، چیف سیکرٹری اور وزیر صحت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ ایچ ایم سی میں جاری غیر قانونی اڈوں، ہراسگی کے کلچر اور انسانی اعضا و باقیات کی بیرونِ ملک فروخت کے اس گھناؤنے سکینڈل کی شفاف انکوائری کر کے ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔









