3

خیبرپختونخوا میں مشیروں کی انتظامی ذمہ داریوں میں اضافہ

خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے اپنی مشاورتی کونسل کے 11 ارکان کو اضافی محکموں کی ذمہ داریاں سونپ دی ہیں، جس کے بعد صوبے میں مشیروں کے انتظامی دائرہ کار میں توسیع کردی گئی ہے۔

صوبائی محکمہ انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف مشیروں کو ان کے موجودہ محکموں کے ساتھ اضافی وزارتوں اور شعبوں کا چارج بھی دے دیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق اطلاعات کی ذمہ داریاں ادا کرنے والی ثمر ہارون بلور کو ریلیف، بحالی اور آبادکاری کے محکموں کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔

محکمہ داخلہ کے نگران کفایت اللہ کو خوراک اور خواتین کو بااختیار بنانے کے محکموں کی ذمہ داریاں بھی سونپ دی گئی ہیں، جبکہ محکمہ خزانہ کے نگران طارق محمود پاشا کو موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیات کے شعبوں کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔

قانون، تعلیم اور صحت کے محکموں میں بھی توسیع

قانون اور پارلیمانی امور کے نگران عامر جاوید کو محنت اور بین الصوبائی رابطہ کاری کے محکموں کی اضافی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔

تعلیم کے نگران ڈاکٹر سید امیر عبداللہ اب سماجی بہبود کا محکمہ بھی دیکھیں گے، جبکہ صحت کی ذمہ داریاں رکھنے والی نگار جوہر کو بہبود آبادی کا اضافی چارج سونپا گیا ہے۔

معدنیات و کان کنی کے نگران ڈاکٹر سرفراز علی کو ثقافت، سیاحت اور کھیلوں کے محکموں کی ذمہ داریاں بھی دے دی گئی ہیں۔

اسی طرح صنعت و تجارت کے نگران ڈاکٹر محمد ارشاد کو آبپاشی اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے محکموں کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔

مواصلات کے نگران آصف رفیق کو زراعت، لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے شعبے بھی سونپ دیے گئے ہیں، جبکہ اوقاف کے نگران مولانا طیب قریشی کو زکوٰۃ و عشر کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

توانائی کے نگران عثمان سیف اللہ خان کو سائنس و ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے محکموں کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔

گورنر راج کے بعد 11 رکنی ایڈوائزری کونسل قائم کی گئی تھی

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے انتظامی امور میں معاونت کے لیے 11 رکنی ایڈوائزری کونسل قائم کی تھی۔

اس کے علاوہ دہشت گردی سے متاثرہ 12 اضلاع کے انتظامی امور کی نگرانی کے لیے الگ انتظامی سیکرٹریٹ بھی قائم کیا گیا تھا۔

مشیروں کو اضافی محکمے تفویض کیے جانے کے بعد ایڈوائزری کونسل کے ارکان کی انتظامی ذمہ داریوں کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا ہے۔