واشنگتن/شکاگو (نیوز ڈیسک) — موسمیاتی سائنس دانوں اور یونیورسٹی آف شکاگو کی 'کلائمیٹ امپیکٹ لیب' نے ایک تشویش ناک پیش گوئی میں خبردار کیا ہے کہ موجودہ 'سپر ایل نینو' کے باعث صرف 10 ماہ کے دوران دنیا بھر میں تقریباً 9 لاکھ اضافی اموات ہو سکتی ہیں۔ ایل نینو کا یہ مظہر اس وقت رونما ہوتا ہے جب وسطی اور استوائی بحر الکاہل میں سمندر کی سطح کا اوسط درجہ حرارت طویل مدتی اوسط سے 2 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ لیب کے 'ایل نینو ہیٹ مورٹیلیٹی ٹریکر' کے مطابق، یہ موسمیاتی پیٹرن رواں سال جون سے ستمبر کے درمیان ہی گرمی سے متعلق 4 لاکھ 84 ہزار سے زائد اموات کا سبب بن چکا ہے، جبکہ اگلے چھ ماہ کے دوران مزید تقریباً 3 لاکھ 72 ہزار اموات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ان متوقع ہلاکتوں کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ صرف نائیجیریا، بھارت اور چین میں ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے؛ جہاں اکیلے نائیجیریا میں 56 ہزار جبکہ بھارت میں 55 ہزار اضافی اموات کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صنعتی دور کے آغاز کے بعد سے انسانی سرگرمیوں اور فوسل فیولز کے جلنے کے باعث گلوبل وارمنگ میں اضافے کی وجہ سے ایل نینو مزید 36 فیصد زیادہ طاقت ور ہو چکے ہیں۔ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور ریکارڈ توڑ گرمی نے اس موسمیاتی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے پیش نظر ماہرین نے فیصلہ سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ قیمتی انسانی جانیں بچانے کے لیے فوری اور ہنگامی اقدامات کریں۔









