3

دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی مستقبل کے حوالے سے بڑی پیشگوئی

دنیا کے امیر ترین شخص اور ٹیسلا و اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے پیشگوئی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور روبوٹکس کے شعبوں میں تیز رفتار ترقی کے باعث مستقبل میں پیسوں کی بچت کی اہمیت ختم ہو سکتی ہے۔

ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے جواب میں کہا کہ مستقبل میں مشینیں اتنی بڑی مقدار میں اشیا تیار کرنے اور خدمات فراہم کرنے کے قابل ہو جائیں گی کہ لوگوں کو روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے کام کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

ان کے مطابق اگر ٹیکنالوجی اسی رفتار سے ترقی کرتی رہی تو ملازمتوں، آمدنی اور مالی بچت سے متعلق لوگوں کے نظریات میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔

یہ گفتگو ایک ایسی پوسٹ کے جواب میں سامنے آئی جس میں صارفین موجودہ دور میں مالی فیصلوں اور مستقبل کی بچت کے حوالے سے تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ ایلون مسک کا کہنا تھا کہ مستقبل بعید میں پیسوں کی فکر کرنا بے مقصد ہو سکتا ہے۔

2036 تک دولت بے معنی ہو جائے گی، ایلون مسک

اس سے قبل جولائی 2026 میں ایک انٹرویو کے دوران بھی ایلون مسک نے پیشگوئی کی تھی کہ 2036 تک دولت لوگوں کے لیے بے معنی ہو سکتی ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹس پیداواری عمل کو غیر معمولی حد تک بہتر بنا دیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ آئندہ پانچ برسوں میں اے آئی تمام انسانوں سے زیادہ ذہین ہو سکتی ہے اور تیزی سے ہونے والی پیشرفت کے نتیجے میں مشینیں انسانی ذہنی صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑ دیں گی۔

ایلون مسک کے مطابق مصنوعی ذہانت انسانی تاریخ کو تبدیل کرنے والی اہم ترین ٹیکنالوجیز میں سے ایک ثابت ہو سکتی ہے۔

اے آئی اور روبوٹس سے اشیا اور خدمات سستی ہونے کا امکان

ایلون مسک کا خیال ہے کہ جدید ٹیکنالوجی معاشرتی اور معاشی نظام میں بڑی تبدیلیاں لا سکتی ہے۔ اے آئی پر مبنی مشینیں انسانی تخلیقی صلاحیتوں میں اضافے، اشیا کی تیاری آسان بنانے اور خدمات کی لاگت کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

انسان نما روبوٹس اور ذہین مشینیں مستقبل میں ایسے کام بھی انجام دے سکیں گی جو اس وقت انسانوں کے ذمہ ہیں۔

ان کے مطابق مختلف صنعتوں میں مصنوعی ذہانت پر انحصار بڑھنے سے پیداواری لاگت کم اور کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، جبکہ اشیا اور خدمات زیادہ سستی اور عام لوگوں کی پہنچ میں آ سکتی ہیں۔

تاہم یہ ایلون مسک کی مستقبل سے متعلق پیشگوئیاں ہیں، جن کا عملی نتیجہ ٹیکنالوجی کی ترقی، اس کے استعمال اور معاشی و سماجی تبدیلیوں پر منحصر ہوگا۔