3

لاہور مبینہ اجتماعی زیادتی کیس: آذربائیجان کی خاتون ڈیانا کا ویڈیو بیان میں ملزم احمد تنویر کو بے قصور قرار دینے کا انکشاف

آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون ڈیانا سے لاہور میں مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں متاثرہ خاتون نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں ملزم احمد تنویر کو بے قصور قرار دیتے ہوئے مقدمہ ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس ویڈیو بیان میں ڈیانا کا کہنا ہے کہ احمد تنویر نے ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی اور نہ ہی ان کے موبائل فون چھینے، جبکہ اس سے قبل زیادتی کے حوالے سے دیے گئے تمام بیانات دباؤ کا نتیجہ تھے۔ ویڈیو کے آغاز میں ڈیانا نے 9 اکتوبر کی تاریخ کا حوالہ دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ویڈیو کچھ روز قبل ریکارڈ کی گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق ڈیانا نے آذربائیجان کے سفارت خانے کی دستاویزات کے ذریعے بھی احمد تنویر کو بے قصور قرار دیا ہے، اس کے باوجود پولیس نے 27 اکتوبر تک عبوری ضمانت منظور ہونے کے بعد احمد تنویر کو عدالت کے باہر سے گرفتار کر لیا ہے۔

ایک اور ویڈیو میں بھی ڈیانا کا یہی موقف رہا کہ احمد تنویر نے ان کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کی، تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہ خود عدالت میں پیش ہونا چاہتی تھیں لیکن انہیں بتایا گیا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے جس کے بعد انہیں زبردستی پاکستان سے واپس بھیج دیا گیا۔ ڈیانا نے مزید کہا کہ وہ دیگر دو ملزمان محسن اور علی زین کو بھی معاف کرتی ہیں اور اس معاملے کو مزید آگے نہیں بڑھانا چاہتیں لہٰذا ذاتی مسائل میں ان کا نام استعمال نہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ ستمبر کے آخری ہفتے میں یہ غیر ملکی خاتون اس وقت سامنے آئی تھی جب اس نے لاہور کے تھانہ ڈیفنس سی میں مقدمہ درج کرواتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ دو خواتین (مسکان اور نمرہ) اور تین مردوں (محسن، احمد تنویر اور علی زین) نے اسے نشہ آور چیز پلا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور سامان و موبائل فونز چھین کر ایئرپورٹ کے قریب چھوڑ دیا۔

مقدمے کے اندراج کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ سے فرانزک شواہد، ڈی این اے کے نمونے اور مبینہ استعمال ہونے والی گاڑی برآمد کرنے کے ساتھ مرکزی ملزم محسن سمیت کئی افراد کو حراست میں لیا تھا۔ عدالتی کارروائی کے دوران ملزمہ مسکان اور دیگر ملزمان محسن و علی زین نے اپنے بیانات میں موقف اختیار کیا تھا کہ ڈیانا سے ملاقاتیں ایک نجی پارٹی میں ہوئیں جہاں وہ خود آپے سے باہر ہوئیں اور دورانِ سفر گاڑی میں ہاتھا پائی کے بعد زبردستی اتر گئیں۔ تفتیش کے دوران خاتون کی ٹریول ہسٹری، بیانات میں تضاد اور ان کی پاکستان میں موجودگی کے دوران ایک پاکستانی نوجوان سے مبینہ نکاح اور عروسی لباس میں ویڈیوز بھی سامنے آئیں، جس نے اس پورے کیس کو مشکوک بنا دیا تھا، اور رواں ماہ کے آغاز میں لاہور پولیس کی نگرانی میں ڈیانا کو واپس آذربائیجان روانہ کر دیا گیا تھا۔