8

غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات میں راضی نامہ ملزم کو ضمانت کا حق نہیں دیتا: لاہور ہائی کورٹ

لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ نے غیرت کے نام پر قتل کے ایک اہم کیس میں تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایسے سنگین جرائم میں فریقین کے مابین سمجھوتہ یا راضی نامہ ملزمان کو ضمانت کا حقدار نہیں بناتا۔ عدالت نے 18 سالہ لڑکی نجمہ مائی کے قتل میں ملوث دو ملزمان ناصر اور پرویز کی درخواستِ ضمانت خارج کر دی۔

جسٹس سید فرہاد علی شاہ کی جانب سے جاری کردہ فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ نہ ملکی قانون اور نہ ہی دینِ اسلام نام نہاد غیرت کے نام پر انسانی جان لینے کی اجازت دیتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ غیرت کے نام پر قتل آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت شہریوں کو دیے گئے بنیادی حقِ زندگی اور آزادی کے صریح منافی ہے، جبکہ آئین کے آرٹیکل 8 کی روشنی میں بنیادی حقوق سے متصادم کوئی بھی فرسودہ رسم و رواج قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 311 کے تحت غیرت کے نام پر قتل ایک ناقابلِ راضی نامہ جرم ہے۔ عدالت نے مزید رولنگ دی کہ مدعی یا گواہوں کی جانب سے بیانات سے منحرف ہونے کے حلف نامے جمع کرانا بھی ملزمان کی رہائی یا ضمانت کی منظوری کے لیے قانونی طور پر کافی نہیں۔