8

دبئی میں روایتی پوسٹل کوڈ کے بغیر ڈاک اور پارسل کی ترسیل کا نظام کیسے کام کرتا ہے؟

دبئی دنیا کے ان منفرد شہروں میں شامل ہے جہاں خطوط، پارسل اور آن لائن خریداریاں پہنچانے کے لیے روایتی پوسٹل یا زپ کوڈ کا نظام رائج نہیں ہے۔ دیگر ممالک سے آنے والے مسافروں اور آن لائن خریداروں کے لیے یہ بات حیران کن ضرور ہے، لیکن جدید ترسیلی نظام کے تحت بغیر زپ کوڈ کے بھی پارسلز بروقت اور درست منزل تک پہنچائے جاتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں ڈاک کی ترسیل ایمریٹس پوسٹ کے زیرِ انتظام ہوتی ہے، جہاں پوسٹل کوڈ کے بجائے وصول کنندہ کے نام، عمارت کے نام یا نمبر، اسٹریٹ، فلیٹ یا یونٹ نمبر، امارت اور فعال فون نمبر کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ رہائشی اور کاروباری ادارے پی او باکس کا استعمال بھی کرتے ہیں جہاں براہِ راست یا گھر پر ڈاک وصولی کی سہولت دی جاتی ہے۔ دبئی میں مقیم سیاح آن لائن خریداری کے لیے ہوٹل کا نام، پتہ، کمرہ نمبر اور اپنا فون نمبر درج کر کے بآسانی اشیاء منگوا سکتے ہیں۔

اگر بین الاقوامی ویب سائٹس پر زپ کوڈ درج کرنا لازمی ہو تو وہاں "این اے" (Not Applicable) یا ڈیفالٹ کوڈ درج کر کے عمل مکمل کیا جا سکتا ہے۔ ڈاک اور پارسلز کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ایمریٹس پوسٹ باقاعدہ ٹریکنگ نمبر فراہم کرتا ہے، جس کی بدولت صارف اپنے سامان کی ترسیل کا بروقت جائزہ لے سکتا ہے۔