176

نیٹو کنٹینر سے ٹول ٹیکس میں سو فیصد اضافے کا فیصلہ 

اسلام آباد۔ پاکستان نے امریکی امداد کی بندش کے بعد نیٹو کنٹینرز سپلائی بند کرنے کی بجائے کنٹینرز کا ٹول ٹیکس میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ اضافہ 100 فیصد سے زائد سے بھی بڑھانے کا امکان ہے ۔

اس حوالے سے اہم فیصلے اسی ہفتے ہو جائیں گے۔ افغانستان میں نیٹو افواج کی سپلائی سو فیصد کراچی بندرگاہ کے ذریعے ہوتی ہے اورً نیٹو کنٹینرز بھاری سازو سامان لے کر چمن اور خیبرپاس کے ذریعے افغانستان کو سامان لے جاتے ہیں عام طور پر فی کنٹینر پاکستان کو 1700 ڈالر ادا بطور ٹول ٹیکس ادا کرتا ہے اب اس میں 100 فیصد اضافے کیا جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ٹول ٹیکس میں سو فیصد اضافہ کرنے سے پاکستان کو امداد کے نتیجہ میں ہونے والے تعلقات کا ازالہ کیا جائے گا ۔

گزشتہ 17 سالوں پر محیط جنگ میں افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو سپلائی پاکستان کے راستے ہوتی ہے جس سے پاکستان کی شاہراہوں کو بے پناہ نقصان پہنچ چکا ہے جبکہ امریکی اور اس کے اتحادی ممالک پاکستان کو معمولی سا ٹیکس ادا کرتے ہیں امریکی حکومت کی طرف سے امداد بندش کر کے ناناصافی کے تمام حدیں کراس کی ہیں اس کے جواب میں حکومت پاکستان نے سپلائی کی مکمل معطلی کی بجائے ٹول ٹیکس میں اضافہ کئے جانے کا امکان ہے اور اس مقصد کے لئے وزارت مواصلات کے اعلی حکام وزارت خزانہ سے مل کر اس ہفتے فیصلے کریں گے ۔