4

وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم کالعدم اور صدرِ مملکت کا فیصلہ بحال

وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا 31 دسمبر 2024 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے صدرِ مملکت کا حکم بحال کر دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ جنسی عنصر کے بغیر شکایت وفاقی محتسب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی کیونکہ کام کی جگہ پر ہراسانی کے قانون کا بنیادی مقصد جنسی ہراسانی سے تحفظ فراہم کرنا ہے، اور ہر نامناسب رویہ ہراسانی کے زمرے میں نہیں آتا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ہراسانی ایکٹ کا اطلاق عمومی شکایات پر نہیں ہوتا تاہم ادارے ملازمین کے نامناسب رویے پر اپنے سروس رولز کے تحت کارروائی کے مجاز ہیں، جبکہ صدرِ مملکت وفاقی محتسب کے فیصلوں کے خلاف دائر نمائندگی سننے کا مکمل اختیار رکھتے ہیں اور ہائیکورٹ اس میں محدود آئینی بنیادوں پر ہی مداخلت کر سکتی ہے۔ یاد رہے کہ اس کیس میں وفاقی محتسب نے دو بینک افسران کو برطرف کیا تھا جن کی سزا کو صدرِ مملکت نے تبدیل کر کے سرزنش میں بدل دیا تھا، جسے ہائیکورٹ نے کالعدم کر کے محتسب کا فیصلہ بحال کیا تھا، اور اب جدید دور کے قانونی تناظر میں یہ فیصلہ ملازمین کے حقوق اور اداروں میں کام کرنے کے ضوابط کی تشریح میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔