3

کرائم اسٹوری کی اسکرپٹنگ کے لیے اے آئی سے قتل کا طریقہ پوچھنے والا نوجوان حراست کے بعد رہا

کراچی (نیوز ڈیسک) — کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس کے رہائشی ایک نوجوان کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے قتل کا طریقہ کار پوچھنا مہنگا پڑ گیا، تاہم بعد ازاں تفتیش مکمل ہونے پر اسے رہا کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق، نوجوان نے ایک فرضی کرائم اسٹوری کی اسکرپٹنگ کے سلسلے میں اے آئی سے مدد حاصل کرتے ہوئے قتل کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کیے تھے، اور اے آئی کو بتایا تھا کہ اس فرضی کہانی کے مطابق مذکورہ شخص نے اس کے والد کی توہین کی تھی جس کا بدلہ لینے کے لیے وہ معلومات حاصل کر رہا ہے۔ تاہم، مشکوک سوالات کی نشاندہی کرنے والے اے آئی کے سیفٹی گائیڈ نے اس سرگرمی کو قواعد کے خلاف قرار دیتے ہوئے 4 ستمبر کو اس کی اطلاع امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کو دی، جس نے بروقت پاکستانی حکام کو مطلع کیا۔

امریکی ادارے کی اطلاع پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پی ای سی ایچ ایس میں ریڈ کر کے نوجوان کو حراست میں لے لیا اور اس سے سخت پوچھ گچھ کی۔ دورانِ تفتیش نوجوان نے انکشاف کیا کہ وہ صرف ایک فرضی کہانی لکھ رہا تھا اور حقیقت میں اس کے والد کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔ این سی سی آئی اے حکام کے مطابق تفتیش کے دوران کسی بھی حقیقی قتل کی منصوبہ بندی یا مجرمانہ واقعے کے شواہد سامنے نہیں آئے، لہٰذا تمام قانونی کارروائی اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد نوجوان کو رہا کر دیا گیا۔