گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اگر صوبے میں بدامنی اور انتشار اسی طرح بڑھتا رہا تو گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق وہ خیبرپختونخوا کی صورتحال سے صدرِ مملکت کو آگاہ کرتے رہتے ہیں اور متعلقہ فیصلہ سامنے آنے کی صورت میں اس پر عمل کیا جائے گا۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے واقعے کے زخمیوں کی عیادت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ مارچ کی کال دے رہے ہیں، وہ مارچ کرکے دکھائیں اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبے میں انتشار اور دہشت گردی کے مسائل موجود ہیں اور ان سے نمٹنے کیلئے سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کسی سرکاری افس
کی جانب سے ایسے اقدامات کیے گئے جو ان کے مطابق غیر قانونی سرگرمیوں میں معاونت کے زمرے میں آتے ہوں تو اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پولیس کو کسی فرد یا گروہ کے تابع نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے ڈیرہ اسماعیل خان میں احتجاج ختم کرنے کے فیصلے کا بھی خیر مقدم کیا اور ان کے جائز مطالبات کی حمایت کا اظہار کیا۔
انہوں نے صوبے کی مجموعی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی اور بدامنی کے خاتمے کیلئے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پہلے صوبے میں امن و امان بہتر ہونا چاہیے تاکہ شہری معمول کی زندگی کی طرف واپس آسکیں۔
گورنر خیبرپختونخوا نے ایک بار پھر کہا کہ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو آئینی راستوں کے تحت گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکانات موجود ہیں۔ حالیہ دنوں میں وہ صوبے میں گورنر راج کے امکان اور آئینی طریقہ کار کا متعدد بار ذکر کرچکے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے 4 اکتوبر کے مارچ کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے مارچ کی کال برقرار رکھنے کا مؤقف سامنے آیا ہے۔









