سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک کی مبینہ غیر قانونی لوڈشیڈنگ اور قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق آئینی درخواست پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔
درخواست گزار سیدہ ماریہ رضا نے مؤقف اختیار کیا کہ باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا کرنے والے صارفین کو بھی مبینہ طور پر غیر قانونی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ لیاری ایکسپریس وے سے متصل بعض علاقوں کے کروڑوں روپے کے واجبات ادا نہیں کیے گئے، تاہم نادہندہ علاقوں کے مکینوں کو حاجی لیموں گوٹھ کے پی ایم ٹی سے کنکشن فراہم کیے گئے۔
درخواست گزار کے مطابق بعض علاقوں میں بجلی چوری اور کنڈوں کے باعث ان کے علاقے کی کیٹیگری تبدیل کی گئی، جو کے الیکٹرک ڈسٹری بیوشن رولز 2005 اور نیپرا قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ نیپرا ایکٹ کے تحت کے الیکٹرک پر جرمانہ عائد کیا جائے اور صارفین کو بلاجواز، امتیازی اور مبینہ غیر قانونی لوڈشیڈنگ سے تحفظ فراہم کیا جائے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نیپرا پہلے ہی درخواست گزار کے حق میں حکم امتناع جاری کرچکی ہے، اس لیے درخواست قابلِ سماعت نہیں۔
عدالت نے دونوں جانب کے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔









