9

دہشت گردی ریاستی پالیسیوں کی پیداوار ہے، پنجاب کے ساتھ ساتھ پختونخوا اور بلوچستان کو بھی محفوظ بنایا جائے: ایمل ولی خان

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کسی صوبے کی نہیں بلکہ ریاستی پالیسیوں کی پیداوار ہے۔ ہمیں پنجاب کے محفوظ ہونے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن اعتراض دہشت گردی کے خلاف ریاست اور اشرافیہ کے دوغلے پن پر ہے، اور ہم چاہتے ہیں کہ پختونخوا اور بلوچستان بھی اتنے ہی محفوظ ہوں جتنے پنجاب اور اسلام آباد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پختونخوا کے عوام گزشتہ پانچ دہائیوں سے اس دہشت گردی کی سب سے بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں، اور یہ پالیسیاں یہاں کے عوام سے پوچھ کر نہیں بنائی گئی تھیں۔ باچا خان اور ولی خان نے ماضی میں ہی خبردار کر دیا تھا کہ کابل کی آگ کو ہوا دینے کے نتائج پورے خطے کو بھگتنے ہوں گے، مگر اس وقت ان کے انتباہ کو سننے کے بجائے انہیں غدار اور ملک دشمن کے القابات سے نوازا گیا۔ ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے آج بھی پختونخوا کو تختِ اسلام آباد کے لیے قربان کیا جا رہا ہے، اس لیے 1947 سے لے کر اب تک کے سیاہ و سفید کے مالکوں، سہولت کاروں اور اس گھناؤنے کھیل میں ملوث تمام کرداروں (سیاستدانوں، جرنیلوں، ججوں اور صحافیوں) کا بلاامتیاز احتساب کرنے کے لیے ایک آزاد اور خودمختار 'ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیئیشن کمیشن' قائم کیا جائے۔