2

پنجاب کی ترقی کیلئے دوسرے صوبوں کا استحصال ہورہا ہے، مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے وفاقی حکومت پر صوبوں کے درمیان وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف پنجاب کی ترقی کے لیے دیگر صوبوں کے حقوق متاثر کیے جا رہے ہیں۔

پنجاب اور دیگر صوبوں کے درمیان ترقیاتی صورتحال اور نظام کے ممکنہ بحران پر ردعمل دیتے ہوئے مزمل اسلم نے سوال اٹھایا کہ سسٹم آخر کیوں ناکام ہو رہا ہے؟ کیا چھوٹے صوبوں کو جان بوجھ کر پنجاب سے پیچھے رکھا جا رہا ہے؟

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے غیر متوازن فیصلوں کے باعث صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم میں واضح تضاد پیدا ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق پنجاب کو نیٹ ہائیڈل پاور پرافٹ کی مد میں خیبر پختونخوا کے مقابلے میں اضافی ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔

مزمل اسلم نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ سال وفاق نے پنجاب کو 96.8 ارب روپے جبکہ خیبر پختونخوا کو 30 ارب روپے ادا کیے، یعنی پنجاب کو ایک سال میں 66.8 ارب روپے اضافی دیے گئے۔ ان کے بقول گزشتہ 3 سال کے دوران بھی پنجاب کو خیبر پختونخوا کے مقابلے میں 106.2 ارب روپے اضافی ادا کیے گئے۔

مشیر خزانہ خیبر پختونخوا نے کہا کہ پنجاب کو اضافی وسائل کے ساتھ قابل تقسیم محاصل میں این ایف سی کے تحت 51.5 فیصد حصہ بھی مل رہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت کے 786 ترقیاتی منصوبوں میں خیبر پختونخوا کے صرف 7 منصوبے شامل ہیں، جبکہ رواں مالی سال کے وفاقی ترقیاتی بجٹ میں ضم اضلاع کے فنڈز نکال کر خیبر پختونخوا کے لیے صرف 2.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

مزمل اسلم نے سوال کیا کہ وزیراعظم کا لاہور سے تعلق ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ملک کے دیگر صوبوں کے وسائل غیر متوازن انداز میں استعمال کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے حقوق کے معاملے پر حکمران جماعت اور اتحادی نمائندوں کی خاموشی تشویشناک ہے۔ صوبائی حکومت وفاق کی یکطرفہ پالیسی کے خلاف اپنے واجبات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کرے گی۔

مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ اگر پنجاب کے واجبات ادا کرنے کے لیے وسائل موجود ہیں تو خیبر پختونخوا کے واجبات کی ادائیگی میں مالی مشکلات کا جواز بھی واضح کیا جانا چاہیے۔