ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال ختم نہ ہوسکی، جس کے باعث مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت بدستور معطل ہے اور کروڑوں روپے کے تجارتی سامان کی ترسیل متاثر ہورہی ہے۔
لاہور سمیت مختلف شہروں میں ڈرائیورز اور ٹرانسپورٹ انڈسٹری سے وابستہ افراد ہڑتال کے باعث مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ سندھ میں ہڑتال ختم کرانے کے لیے حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
کراچی کے گورنر ہاؤس میں گڈز ٹرانسپورٹرز اور حکومتی نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے، جس میں ٹرانسپورٹرز نے اپنے مطالبات حکام کے سامنے رکھے۔
ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ حکومت کے ساتھ بیشتر مطالبات پر اتفاق ہوگیا ہے، تاہم صرف زبانی یقین دہانی پر ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کو مطالبات کے حوالے سے تحریری منٹس اور دستخط شدہ یقین دہانی درکار ہے، جس کے بعد ہی ہڑتال ختم کرنے پر غور کیا جائے گا۔
ملک شہزاد اعوان نے امید ظاہر کی کہ حکومت ٹرانسپورٹرز کے تمام مطالبات تسلیم کرے گی اور معاملات تحریری طور پر طے ہونے کے بعد ہڑتال کے خاتمے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔
دوسری جانب ہڑتال کے باعث ملک بھر میں تجارتی سامان کی ترسیل متاثر ہونے سے کاروباری سرگرمیوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے، جبکہ مال بردار گاڑیوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر کھڑی ہے۔









