پشاور (نیوز ڈیسک) — طبی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ خون کا عطیہ دینا اگرچہ ایک عظیم نیکی اور جان بچانے والا عمل ہے، تاہم ہر فرد خون دینے کا اہل نہیں ہوتا۔ خون لینے سے قبل عطیہ دہندہ کی طبی تاریخ، ہیموگلوبن، بلڈ پریشر، نبض اور جسمانی درجہ حرارت کی مکمل جانچ لازمی ہے تاکہ خون دینے والے اور مریض دونوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ ماہرین کے مطابق ایک مکمل صحت مند مرد ہر 3 ماہ بعد جبکہ خواتین ہر 4 ماہ بعد باآسانی خون کا عطیہ دے سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ سرجری یا ویکسینیشن کروانے والے افراد، حاملہ خواتین، دائمی امراض میں مبتلا یا طویل مدتی ادویات استعمال کرنے والے، خون کی شدید کمی (انیمیا) کے شکار اور حال ہی میں ٹیٹو بنوانے والے افراد فی الوقت خون نہیں دے سکتے۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ خون عطیہ کرنے سے 2 سے 3 گھنٹے قبل ہلکی و آئرن سے بھرپور غذا کھائیں، مناسب نیند لیں اور خالی پیٹ خون ہرگز نہ دیں۔ جبکہ خون دینے کے بعد وافر مقدار میں پانی یا تازہ جوس پئیں اور فوری طور پر بھاری ورزش، وزن اٹھانے اور سگریٹ نوشی سے مکمل گریز کریں۔









