3

سائنسدانوں کا نیا حیران کن کائناتی انکشاف: نظامِ شمسی کے حجم جتنے 'بلیک ہول اسٹار' کی دریافت

بین الاقوامی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ایک نیا اور حیران کن کائناتی اسرار دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ محققین کے مطابق یہ ایک غیر معمولی 'بلیک ہول اسٹار'  ہے، جس کا کل حجم ہمارے نظامِ شمسی کے برابر ہے اور یہ انتہائی روشن سرخی مائل روشنی کے ساتھ چمک رہا ہے۔

یہ پراسرار کائناتی مظہر برج قیطس  میں واقع ایک کہکشاں "مام زی 14" میں دیکھا گیا ہے، جو زمین سے اربوں نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ سائنسدانوں کا تخمینہ ہے کہ اس کی تشکیل کائنات کی تخلیق (بگ بینگ) کے محض 66 کروڑ سال بعد ہوئی تھی۔ یہ جسم دیکھنے میں ایک دیوہیکل ستارے جیسا ہے جو عام ستاروں کے مقابلے میں 100 ارب گنا زیادہ توانائی خارج کرتا ہے—جو کہ ایک ایسا عمل ہے جو عام طور پر صرف بلیک ہولز سے ہی منسوب کیا جاتا ہے۔

تحقیقی مجلے نیچر میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں اس مظہر کو "مام بی ایچ 1" کا نام دیا گیا ہے۔ میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدان روہن نائیڈو کے مطابق، یہ سائنس کے لیے بالکل نئی قسم کا کائناتی مظہر ہے جو ستاروں اور بلیک ہولز دونوں کی مشترکہ خصوصیات ظاہر کرتا ہے۔ کمپیوٹر سمولیشنز کے ذریعے بھی یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ کسی بڑے ستارے کی بجائے ایک ایسا بلیک ہول ہے جو ستارے کی مانند چمک رہا ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس دریافت سے کائنات کے ابتدائی دور میں کہکشاؤں کے ارتقا کو سمجھنے میں ایک بڑی پیشرفت حاصل ہوگی۔