7

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی تو پی ٹی آئی قائمہ کمیٹیوں میں واپس آ جائیں گے، ناصر عباس

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ اگر عمران خان سے ملاقات کرائی جائے تو پاکستان تحریک انصاف قائمہ کمیٹیوں میں واپس آ سکتی ہے۔

علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ اگر حکومت چاہتی ہے کہ پارلیمنٹ اپنا کردار جاری رکھے تو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے۔ ان کے مطابق عمران خان سے ملاقات کی صورت میں پی ٹی آئی قائمہ کمیٹیوں میں واپس آنے پر غور کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ مذاکرات پارلیمنٹ ہاؤس کے کانسٹیٹیوشن روم میں ہوں تو اپوزیشن اس کیلئے تیار ہے۔

سینیٹ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس جاکر حکومت کی پوزیشن کو قانونی جواز فراہم نہیں کرنا چاہتے، جبکہ اسپیکر آفس میں مذاکرات نہ کرنے کی بھی یہی وجہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم سے قبل عدالتی حکم پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی تھی۔ عمران خان کی صحت سے متعلق جان بوجھ کر ابہام پیدا کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد پارٹی میں اختلافات پیدا کرنا بھی ہوسکتا ہے۔

علامہ ناصر عباس نے دعویٰ کیا کہ انہیں معلوم ہے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کیوں ناکام ہوئے۔ ان کے مطابق مذاکرات کیلئے بانی پی ٹی آئی کے پاس اڈیالہ جیل میں مکمل منصوبہ لے کر گئے تھے، جبکہ عمران خان کی روانگی سے قبل خیبرپختونخوا ہاؤس میں بھی اجلاس ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ عمران خان اور پارٹی کے درمیان فرق سمجھتے ہیں اور آخری دم تک بانی پی ٹی آئی کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔

محسن نقوی کے سسٹم کولیپس سے متعلق بیان پر بات کرتے ہوئے علامہ ناصر عباس نے کہا کہ وہ اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔ ان کے مطابق محسن نقوی نے جس مرض کی نشاندہی کی وہ درست ہے، تاہم جو دوا تجویز کی گئی ہے وہ غیر قانونی ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کیلئے سنجیدہ ماحول پیدا کرنا ضروری ہے اور عمران خان سے ملاقات اس عمل میں اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔