6

بھارت میں سکھ رہنما پر گوردوارے کے اندر قاتلانہ حملہ

بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے شہر ناندیڑ میں شرومنی اکالی دل کے سربراہ اور پنجاب کے سابق نائب وزیر اعلیٰ سکھبیر سنگھ بادل پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق واقعہ ناندیڑ کے گاؤں موگا میں واقع گوردوارہ ماتا صاحب دیوا جی میں اس وقت پیش آیا جب سکھبیر سنگھ بادل مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد سیڑھیوں سے نیچے آ رہے تھے۔

رپورٹس کے مطابق اچانک ایک سکھ سیوادار نے تیز دھار کرپال سے سکھبیر سنگھ بادل پر حملہ کرنے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو قابو کرلیا۔

حملے کے دوران سکھبیر سنگھ بادل کے ہاتھ پر گہرا زخم آیا جبکہ انہیں بچانے کی کوشش میں سیکیورٹی اہلکار سنتوش کیندرے بھی زخمی ہوگئے۔

سکھبیر سنگھ بادل کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔ واقعے کے بعد اسپتال کے باہر کارکنوں اور شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔

پولیس نے حملہ آور کی شناخت جسپال سنگھ کے نام سے کی ہے، جسے نہنگ سکھ بتایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق وہ گزشتہ تقریباً دو برس سے گوردوارے میں خدمات انجام دے رہا تھا اور اسے موقع پر ہی حراست میں لے لیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کے مبینہ طور پر سکھبیر سنگھ بادل کے پیٹ پر وار کرنے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی اہلکار نے بروقت مداخلت کرکے حملہ ناکام بنا دیا۔

حملے کے وقت سکھبیر سنگھ بادل کے ہمراہ ان کی اہلیہ اور اکالی دل کی رکن پارلیمنٹ ہرسمرت کور بھی موجود تھیں، جو محفوظ رہیں۔

پولیس نے واقعے کے محرکات کا تعین کرنے کیلئے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

واضح رہے کہ سکھبیر سنگھ بادل پر اس سے قبل 4 دسمبر 2024 کو امرتسر کے گولڈن ٹیمپل کے باہر بھی فائرنگ کے ذریعے قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم وہ حملہ بھی سیکیورٹی اہلکاروں نے ناکام بنا دیا تھا۔

سکھبیر سنگھ بادل اس وقت اکال تخت کی جانب سے سنائی گئی مذہبی سزا کے تحت گولڈن ٹیمپل میں ’سیوادار‘ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔