3

آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں برقرار، عالمی تیل مزید مہنگا ہونے کا خدشہ

آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل میں جاری رکاوٹوں کے باعث امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) نے رواں سال عالمی خام تیل کی قیمتوں کے تخمینے میں نمایاں اضافہ کردیا۔

امریکی ادارے کے مطابق رواں سال برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت کا تخمینہ 81.91 ڈالر سے بڑھا کر 86.81 ڈالر فی بیرل کردیا گیا ہے، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی اوسط قیمت کا اندازہ 76.26 ڈالر سے بڑھا کر 80.88 ڈالر فی بیرل مقرر کیا گیا ہے۔

ای آئی اے کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں نمایاں رکاوٹیں اگست کے دوران بھی برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں عالمی تیل کی سپلائی کو مزید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

امریکی ادارے کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے، اس لیے یہاں طویل مدت تک آمدورفت متاثر ہونے کی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر براہ راست دباؤ پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب ای آئی اے نے 2027 کے لیے تیل کی قیمتوں کا نسبتاً کم تخمینہ پیش کیا ہے۔ ادارے کے مطابق آئندہ سال برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 69.39 ڈالر جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی اوسط قیمت 65.39 ڈالر فی بیرل رہنے کی توقع ہے۔

ای آئی اے کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر آتی ہے اور عالمی تیل کی سپلائی بحال ہوجاتی ہے تو آئندہ سال قیمتوں میں کمی ممکن ہے۔

تاہم کشیدگی برقرار رہنے اور تیل کی ترسیل میں مزید رکاوٹیں پیدا ہونے کی صورت میں عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کا خطرہ موجود رہے گا۔

عالمی توانائی کی منڈی میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کو تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہونے والے اہم عوامل میں شمار کیا جارہا ہے۔