بیجنگ (نامہ نگار) چین کے مشرقی صوبے جیانگ سو کے شہر روگاؤ سے تعلق رکھنے والی 111 سالہ خاتون وانگ گائینگ نے اپنی طویل، پرسکون اور صحت مند زندگی کے سنہرے اصول و راز بیان کر دیے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق وانگ گائینگ کا کہنا ہے کہ وہ عمر رسیدگی کے باوجود خود کو بوڑھا محسوس نہیں کرتیں کیونکہ وہ اب بھی آسانی سے چل پھر سکتی ہیں۔ 100 سال کی عمر سے تجاوز کرنے کے بعد بھی وہ کھیتوں میں مونگ پھلی اور تربوز کی کٹائی کا کام کرتی رہی ہیں جبکہ اب بھی کپڑے تہہ کرنے اور میز صاف کرنے جیسے گھریلو کام خود انجام دیتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے جسم کو متحرک رکھنا بے حد ضروری ہے اور وہ گھریلو کام کاج کو ہی بہترین ورزش اور دورانِ خون بہتر بنانے کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔
ان کی روزمرہ روٹین میں سادہ غذا شامل ہے، جس میں وہ مچھلی کو اس کی نرمی اور آسان ہضم کے باعث سب سے زیادہ پسند کرتی ہیں۔ وانگ گائینگ کسی سخت غذائی پابندی کے بجائے اعتدال کے ساتھ کم اور متنوع غذا کے استعمال کو ترجیح دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پرسکون اور طویل زندگی کے لیے غصے و پریشانی سے بچنے، دوسروں سے حسنِ اخلاق سے پیش آنے اور بہترین نیند کو بنیادی شرط قرار دیتی ہیں۔ وہ روزانہ رات 7 بجے سو کر صبح 7 بجے بیدار ہوتی ہیں اور دن میں بھی مختصر قیلولہ کرتی ہیں۔ واضح رہے کہ ان کے شہر روگاؤ کو معمر افراد کا مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں رواں سال فروری تک 100 سال یا اس سے زائد عمر کے 672 افراد مقیم تھے۔









