7

تمام سبز غذائیں صحت بخش نہیں ہوتیں: طبی ماہرین کا کچی سبزیوں، سبز آلو اور وٹامن کے سے بھرپور غذاؤں کے استعمال پر محتاط رہنے کا مشورہ

اگرچہ سبزیاں اور پھل ایک متوازن اور صحت مند خوراک کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں، تاہم طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہر سبز رنگ کی غذا لازماً مفید نہیں ہوتی اور بعض افراد کے لیے کچھ سبز غذائیں صحت کی متعدد پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق کمزور قوتِ مدافعت والے افراد میں پالک جیسی سبزیاں الرجی سے لے کر اینافیلیکسس (Anaphylaxis) جیسے شدید ردعمل کا باعث بن سکتی ہیں۔ آنتوں کی حساسیت (IBS) کے مریضوں کے لیے گوبھی، بروکولی اور اسپراؤٹس گیس، پیٹ پھولنے اور سوزش کا سبب بنتے ہیں۔ دوسری جانب، گردوں کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے پالک اور سوئس چارڈ جیسی پوٹاشیم اور آکسیلیٹ سے بھرپور غذائیں خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں کیونکہ یہ جسم میں الیکٹرولائٹ کا عدم توازن پیدا کرنے اور گردے کی پتھری کے خطرے کو بڑھانے کا باعث بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ، خون پتلا کرنے والی دوا 'وارفارن' استعمال کرنے والے مریضوں کو وٹامن 'کے' سے بھرپور سبز پتوں والی سبزیوں کا استعمال معالج کے مشورے کے بغیر نہیں کرنا چاہیے۔

طبی رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ روشنی کے اثر سے سبز ہو جانے والے آلوؤں میں 'سولانین' (Solanine) نامی زہریلا مادہ پیدا ہو جاتا ہے، جو متلی، قے اور اعصابی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی طرح زیادہ گرم یا غیر معیاری سبز چائے میں موجود کیفین اور ٹینن معدے کی خرابی اور گھبراہٹ پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ مصنوعی سبز رنگ والی میٹھی اشیا اور کینڈیز شوگر اور دانتوں کی بیماریوں کا موجب بنتی ہیں۔ ماہرین نے تاکید کی ہے کہ محض سبز رنگ دیکھ کر غذا کو فائدہ مند نہ سمجھا جائے بلکہ صحت کی موجودہ صورتحال اور مقدار کو مدنظر رکھ کر ہی انتخاب کیا جائے۔