3

ماہرینِ امراضِ جگر کی تشویشناک وارننگ، 80 فیصد تک متاثر ہونے پر بھی علامات ظاہر نہیں ہوتیں

انسانی جسم کا اہم ترین عضو 'جگر' عام طور پر اس وقت تک توجہ حاصل نہیں کر پاتا جب تک وہ شدید خرابی کا شکار نہ ہو جائے۔ ماہرینِ امراضِ جگر نے ایک اہم انکشاف میں خبردار کیا ہے کہ جگر 70 سے 80 فیصد تک متاثر ہونے کے باوجود بغیر کسی واضح علامت کے خاموشی سے اپنا کام جاری رکھتا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد دہائیوں تک اس بیماری سے مکمل لاعلم رہتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جگر کے اندر درد محسوس کرنے والے اعصاب (Nerves) موجود نہیں ہوتے، اور اس میں شدید نقصان کے باوجود کارکردگی برقرار رکھنے کی غیر معمولی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 'فیٹی لیور' یا میٹابولک ڈس فنکشن جیسی بیماریاں 10 سے 30 سال تک جسم کے اندر خاموشی سے پرورش پاتی رہتی ہیں۔

بیماری کے پھیلنے کی وجوہات اور متاثرہ آبادی

  • متاثرہ آبادی کا اندازہ: طبی ماہرین کے مطابق یو اے ای کی 30 سے 40 فیصد بالغ آبادی فیٹی لیور کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے تقریباً 60 فیصد مریض اس مرض میں مبتلا پائے گئے ہیں۔

  • خطرے کے عوامل: موٹاپا، ذیابیطس، میٹابولک سنڈروم اور غیر متحرک طرزِ زندگی کے باعث اب کم عمر افراد میں بھی جگر کی بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

  • پتلے افراد بھی غیر محفوظ: فیٹی لیور صرف موٹے افراد تک محدود نہیں، بلکہ نارمل وزن رکھنے والے افراد بھی جینیاتی رجحان، غیر متوازن غذا اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی سے اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔

علامات اور احتیاطی تدابیر

مرحلہعلامات / نشانیاںابتدائی / عمومی علاماتمسلسل تھکن، بھوک کی کمی، پیٹ کے اوپری حصے میں بے آرامی، متلی اور ناگوار کمزوری۔شدید خرابی کی علاماتجلد یا آنکھوں کا پیلا ہونا (یرقان)، گہرا پیشاب، پیٹ و ٹانگوں میں سوجن، جلد پر نیل پڑنا اور ذہنی الجھن۔مضرِ صحت عاداتزیادہ چینی، پراسیسڈ فوڈ، میٹھے مشروبات، نیند کی کمی، بلا ضرورت درد کش ادویات، جڑی بوٹیوں کے غیر تصدیق شدہ نسخے اور جم سپلیمنٹس۔

ڈاکٹروں کا اہم مشورہ اور تجاویز

طبی ماہرین نے زور دیا ہے کہ علامات کا انتظار کرنے کے بجائے ذیابیطس اور موٹاپے کا شکار افراد سال میں کم از کم ایک بار لیور فنکشن ٹیسٹ ، الٹراساؤنڈ، فائبرو اسکین اور لپڈ پروفائل معائنہ لازمی کروائیں۔ وزن میں کمی، متوازن غذا، روزانہ ورزش اور شوگر و کولیسٹرول پر قابو پا کر نہ صرف جگر کے نقصان کی رفتار کو سست کیا جا سکتا ہے بلکہ ابتدائی مرحلے میں اس نقصان کو جزوی طور پر پہلے جیسی صحت مند حالت میں واپس لایا جا سکتا ہے۔