عام طور پر 12 سال کی عمر کے بچے کھیل کود اور تعلیم تک محدود رہتے ہیں، لیکن چین کے صوبے جیانگشی کی لی یوئی نے اپنی سمجھداری اور کاروباری ذہانت سے سب کو حیران کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق لی یوئی نے اپنے چینی نئے سال پر ملنے والے تحائف کی رقم تقریباً 44 ہزار یوآن (تقریباً 17 لاکھ پاکستانی روپے) جمع کی اور اسے دکان خریدنے کے لیے استعمال کیا۔ اس نے نہ صرف اپنا کاروبار شروع کیا بلکہ اپنی والدہ کو ماہانہ تنخواہ پر ملازم بھی رکھا۔
بچی خود کاروبار کے اہم فیصلے کرتی ہے، سپلائرز سے بات چیت کرتی ہے، قیمتیں طے کرتی ہے اور حکمت عملی بناتی ہے۔ روزانہ صبح دکان کھولتی ہے، سامان کا جائزہ لیتی ہے، اسکول جاتی ہے اور اسکول کے بعد دوبارہ دکان آ کر والدہ کے کام میں ہاتھ بٹاتی ہے۔
لی یوئی نے جدید تقاضوں کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹولز کا بھی استعمال سیکھا ہے، جس سے کاروبار کی کارکردگی بہتر ہوئی۔ قیمتوں میں کمی کے بعد خریداروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا اور ابتدائی سرمایہ کاری واپس حاصل کر لی گئی۔
والدہ کا کہنا ہے کہ بیٹی کی تعلیم ہمیشہ اولین ترجیح ہوگی اور اگر کسی مرحلے پر تعلیم متاثر ہوئی تو کاروبار فوری طور پر بند کر دیا جائے گا۔









