عالمی خبر: دنیا بھر کے ممالک نے ہنٹا وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نگرانی اور رابطہ ٹریسنگ کے عمل کو تیز کر دیا ہے، خاص طور پر بحراوقیانوس میں سفر کرنے والی کروز شپ ”ایم وی ہونڈیئس“ پر وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اب تک جہاز پر آٹھ افراد میں وائرس کی تصدیق یا شبہ ظاہر ہوا ہے، جبکہ تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک ڈچ جوڑا اور ایک جرمن شہری شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پانچ افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ مزید تین مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔
ہنٹا وائرس عموماً چوہوں اور چھوٹے جانوروں کے ذریعے پھیلتا ہے، تاہم محدود صورتوں میں انسان سے انسان میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ متاثرہ افراد میں وائرس کی قسم ”اینڈین اسٹرین“ پائی گئی ہے، جو محدود حد تک انسان سے انسان میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
جہاز نے 24 اپریل کو سینٹ ہیلینا جزیرے پر قیام کیا تھا، جہاں تمام مسافروں سے رابطہ کیا جا چکا ہے۔ شپ پر موجود افراد کم از کم 12 ممالک سے تعلق رکھتے تھے، جن میں برطانیہ اور امریکہ کے شہری بھی شامل ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ عام عوام کے لیے خطرہ کم ہے۔ ادارے کی وبائی امراض کی ڈائریکٹر ماریا وان کیرخوف نے کہا کہ موجودہ صورتحال کورونا وائرس جیسی نہیں ہے اور اسے چھ سال قبل کی وبا سے جوڑنے کی ضرورت نہیں۔
امریکی ادارہ برائے امراض کنٹرول اینڈ پریوینشن اور امریکی محکمہ صحت بھی صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، اور جہاز سے اترنے والے مسافروں کی سخت نگرانی کر رہے ہیں تاکہ وائرس کی مقامی سطح پر منتقلی کو روکا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے بریفنگ کے بعد کہا کہ حکومت صورتحال پر قابو رکھ رہی ہے اور ماہرین وائرس اور اس کے پھیلاؤ کے طریقہ کار کا باریک بینی سے مطالعہ کر رہے ہیں۔ ایک مکمل رپورٹ بھی جلد جاری کی جائے گی۔
جہاز سے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیے جانے والے افراد میں دو نیدرلینڈز میں اور ایک جرمنی میں زیر علاج ہیں۔ برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، ڈنمارک اور امریکہ میں بھی بعض افراد کی نگرانی جاری ہے، تاہم فی الحال کسی میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔
جہاز اب کینری آئی لینڈز کی جانب روانہ ہے، جہاں ہفتے یا اتوار تک پہنچنے کی توقع ہے۔ جہاز کے آپریٹر کمپنی اوشن وائیڈ ایکسپیڈیشنز نے بتایا کہ وہ مارچ کے بعد سے تمام مسافروں اور عملے کی تفصیلات جمع کر رہی ہے تاکہ رابطہ ٹریسنگ مکمل کی جا سکے۔









