ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ رات گئے تک جاگنے کی عادت میٹابولک صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ذیابیطس، موٹاپے اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
جرنل فرنٹیئر میں شائع ہونے والی تحقیق میں سونے اور جاگنے کے اوقات کے جسمانی وزن، غذائی عادات اور صحت کے مختلف عوامل پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں 250 سے زائد خواتین کو شامل کیا گیا، جن کے سونے کے معمولات، جسمانی سرگرمیوں، غذائی عادات اور خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔
محققین نے دریافت کیا کہ رات دیر تک جاگنے والی خواتین میں کھانے کی خواہش زیادہ، جسمانی چربی کی مقدار زیادہ اور بلڈ شوگر کے مسائل کا امکان بھی بڑھا ہوا تھا۔
تحقیق کے مطابق رات گئے تک جاگنے والی خواتین میں خون میں چکنائی کی سطح، موٹاپے اور انسولین کے مسائل کا خطرہ زیادہ دیکھا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دیر رات تک جاگنے والے افراد اکثر کاربوہائیڈریٹس اور چکنائی سے بھرپور غذاؤں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، جبکہ پھلوں اور سبزیوں کی مقدار کم ہو سکتی ہے۔
محققین کے مطابق نیند کے بہتر معمولات، متوازن غذا اور وقت پر سونا صحت مند زندگی کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔









