ماہرِ جینیات نے دعویٰ کیا ہے کہ انسانی عمر کو بڑھانے کی تحقیق میں حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کی جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں مستقبل میں انسان 150 سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔
ماہرِ جینیات اسٹو ہوروت کے مطابق، بائیولوجیکل کلاک اور ری جووینیشن کے نئے تجربات نے یہ ممکن بنایا ہے کہ عمر کے عمل کو سست یا حتیٰ کہ پلٹا بھی جا سکتا ہے۔ ہوروت نے کہا کہ اگرچہ وہ ابھی یہ نہیں بتا سکتے کہ کب یہ حقیقت بنے گی، لیکن اس پر کوئی شک نہیں کہ آنے والے وقت میں انسان کی زندگی کی حد بڑھ جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حیاتیاتی عمر کی درست پیمائش نے سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دی ہے کہ کون سی تحقیق یا دوا واقعی بڑھاپے کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے، نہ کہ صرف بیماریوں کا علاج کرے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل العمر انسان کی تحقیق کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور جینیاتی مطالعہ کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ مستقبل قریب میں یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ انسانی زندگی کی حد کو آج کے 70 یا 80 سال سے کہیں زیادہ بڑھایا جا سکے۔
یہ پیشرفت طبی اور جینیاتی دنیا میں انقلاب کے مترادف ہے، اور آنے والے دہائیوں میں انسان کی زندگی کے تصورات کو مکمل طور پر بدل سکتی ہے۔









