82

طلاق کے بعد شوہر نے بیوی سے عطیہ شدہ گردہ واپس مانگ لیا

امریکا میں ایک غیر معمولی مقدمے میں عدالت نے طلاق کے بعد شوہر کی طرف سے عطیہ شدہ گردہ واپس لینے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ نیویارک کی سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا کہ انسانی اعضاء نہ ازدواجی ملکیت ہوتے ہیں اور نہ ہی انہیں رقم کے عوض واپس لیا جا سکتا ہے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق، ڈاکٹر رچرڈ بتسٹا نے 2001 میں اپنی اہلیہ کی جان بچانے کے لیے گردہ عطیہ کیا تھا۔ بعد ازاں جب ان کی شادی ختم ہوئی، تو انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ گردہ ایک مشروط تحفہ تھا جو کامیاب ازدواجی زندگی سے جڑا ہوا تھا، اس لیے طلاق کی صورت میں اسے واپس کیا جائے یا اس کی قیمت ادا کی جائے۔

شوہر نے عدالت میں گردے کی قیمت ڈیڑھ ملین ڈالر مقرر کرنے کی درخواست بھی دائر کی، تاہم عدالت نے اسے ناقابل قبول قرار دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ انسانی اعضاء کو ازدواجی اثاثہ نہیں سمجھا جا سکتا اور نہ ہی طلاق کی بنیاد پر واپسی کا مطالبہ جائز ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ انسانی اخلاقیات، طبی اصولوں اور ازدواجی تنازعات کے حساس پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے، اور عدالت نے اس میں انسانیت اور اخلاقی اقدار کو فوقیت دی ہے۔

اس فیصلے نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کی اور انسانی اعضاء کے عطیہ دینے کے قانونی اور اخلاقی پہلوؤں پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔