121

سائنس کا کرشمہ، دنیا کے سب سے چھوٹے خودکار روبوٹ تیار

یونیورسٹی آف پنسلوانیا (پین) اور یونیورسٹی آف مشی گن کے سائنس دانوں نے دنیا کے سب سے چھوٹے خودکار اور قابلِ پروگرام روبوٹس تیار کر لیے ہیں، جو مستقبل میں انسانی جانیں بچانے اور طبی علاج کے طریقوں میں انقلابی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

محققین کے مطابق ان مائیکرو روبوٹس کی چوڑائی صرف 200 مائیکرومیٹر ہے، جو انسانی بال کی موٹائی سے بھی تقریباً دو گنا ہے۔ یہ ننھی مشینیں نہ صرف اپنے ماحول کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں بلکہ بغیر کسی بیرونی ہدایت کے خود فیصلے کر کے حرکت بھی کر سکتی ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی انسانی جسم کے اندر انفرادی خلیوں کی صحت کی نگرانی اور مخصوص بیماریوں کے علاج کے لیے درست مقام پر دوا پہنچانے میں استعمال ہو سکتی ہے۔

محققین کے لیے سب سے بڑی کامیابی صرف ایک ملی میٹر کے پانچویں حصے کے برابر روبوٹ کو خودمختار طور پر حرکت دینے کا نظام تیار کرنا تھا، کیونکہ خردبینی سطح پر رگڑ اور گاڑھے پن جیسی قوتیں حرکت کو انتہائی مشکل بنا دیتی ہیں۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پین کی ٹیم نے ایک نیا پروپلشن سسٹم تیار کیا۔

یہ مائیکرو روبوٹس ایل ای ڈی روشنی سے توانائی حاصل کرتے ہیں اور ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کے محلول میں کام کرتے ہیں، جو انہیں ایندھن فراہم کرتا ہے۔ روبوٹ ایک برقی میدان پیدا کرتا ہے، جو آئنز کو حرکت دیتا ہے اور یہی عمل انہیں پیچیدہ انداز میں حرکت کرنے کے قابل بناتا ہے۔ یہ روبوٹس گروہوں کی صورت میں بھی سفر کر سکتے ہیں اور ایک سیکنڈ میں اپنے جسم کی لمبائی کے برابر فاصلہ طے کرتے ہیں۔

دنیا کے سب سے چھوٹے روبوٹ کے لیے دنیا کے سب سے چھوٹے کمپیوٹر کی بھی ضرورت تھی، جسے یونیورسٹی آف مشی گن میں تیار کیا گیا۔ اس مائیکرو کمپیوٹر میں پروسیسر، میموری اور سینسرز شامل ہیں، جو ایک ملی میٹر سے بھی چھوٹی چِپ پر نصب ہیں۔

یہ روبوٹ ننھے شمسی پینلز کے ذریعے صرف 75 نینو واٹ توانائی پیدا کرتا ہے، جو ایک اسمارٹ واچ سے ایک لاکھ گنا کم ہے۔ توانائی کی اس انتہائی کم مقدار کے باعث، سائنس دانوں نے سرکٹس کو کم وولٹیج پر چلانے کے لیے خصوصی ڈیزائن تیار کیا، جس سے توانائی کے استعمال میں ہزار گنا سے زائد کمی ممکن ہوئی۔

اس نظام کی ایک اور حیران کن بات اس کی انتہائی کم لاگت ہے۔ بڑے پیمانے پر تیاری کی صورت میں ہر روبوٹ کی قیمت صرف ایک سینٹ کے قریب ہو سکتی ہے، جبکہ پورے کنٹرول سسٹم کی لاگت تقریباً 100 ڈالر بتائی جا رہی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ انسانی جسم میں استعمال سے قبل کئی رکاوٹیں موجود ہیں، تاہم مستقبل میں حیاتیاتی طور پر محفوظ متبادل نظام تیار کیے جا رہے ہیں، جو طبی میدان میں ایک نئی دنیا آباد کر سکتے ہیں۔